بجلی پر فکسڈ چارجز کے نفاذ سے شہری پریشان، استعمال ہو یا نہ ہو بل دینا لازم

جہلم: حکومت کی جانب سے بجلی صارفین پر فکسڈ چارجز کے نفاذ نے شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جس کے تحت اب صارفین کو بجلی استعمال کریں یا نہ کریں، ہر صورت ماہانہ مقررہ رقم ادا کرنا ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق نئے نظام کے تحت پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے ایک کلوواٹ لوڈ پر 200 روپے جبکہ دو کلوواٹ لوڈ پر 400 روپے فکسڈ چارجز مقرر کیے گئے ہیں۔ اسی طرح دیگر صارفین کے لیے یونٹس کے حساب سے چارجز درج ذیل ہیں:

  • 101 سے 200 یونٹس: 600 روپے
  • 201 سے 300 یونٹس: 700 روپے
  • 301 سے 400 یونٹس: 800 روپے
  • 401 سے 500 یونٹس: 1000 روپے
  • 501 سے 700 یونٹس: 1350 روپے

ذرائع کے مطابق یہ چارجز ہر صورت ادا کرنا ہوں گے، چاہے صارف ایک یونٹ بھی استعمال نہ کرے، جس سے گھریلو بجٹ پر اضافی بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی مہنگائی نے زندگی مشکل بنا رکھی ہے اور اب اس نئے نظام نے پریشانی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان فکسڈ چارجز پر نظرثانی کی جائے اور صارفین کو ریلیف فراہم کیا جائے۔

ماہرین کے مطابق موجودہ حالات میں صارفین کے لیے ضروری ہے کہ وہ بجلی کے استعمال میں احتیاط کریں تاکہ اخراجات کو کم کیا جا سکے۔ اس حوالے سے چند احتیاطی تدابیر درج ذیل ہیں:

  • غیر ضروری لائٹس اور پنکھے بند رکھیں
  • انرجی سیور اور LED بلب استعمال کریں
  • اے سی اور ہیٹر کا کم سے کم استعمال کریں
  • برقی آلات کو اسٹینڈ بائی کے بجائے مکمل بند رکھیں
  • زیادہ بجلی استعمال کرنے والے آلات کو محدود وقت میں استعمال کریں

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان تدابیر پر عمل کر کے صارفین اپنے ماہانہ بجلی کے بل میں نمایاں کمی لا سکتے ہیں، تاہم مجموعی طور پر یہ نیا نظام عوام کے لیے بجلی کے استعمال کو مزید مہنگا اور محتاط بنا دے گا۔

Exit mobile version