جہلم شہر سمیت ضلع کی چاروں تحصیلوں میں بغیر نمبر پلیٹ چنگ چی رکشوں کی بھرمار نے شہریوں کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں، جبکہ رکشہ ڈرائیوروں کی جانب سے خود ساختہ کرایوں میں اضافہ بھی معمول بن چکا ہے۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد رکشہ ڈرائیورز نے سٹاپ ٹو سٹاپ کرایہ 100 سے بڑھا کر 150 روپے تک وصول کرنا شروع کر دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ زائد کرایہ مانگنے پر تکرار کی صورت میں ڈرائیوروں کی جانب سے بدتمیزی بھی کی جاتی ہے۔
شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ آر ٹی اے سیکرٹری، موٹر وہیکل ایگزامینر اور ٹریفک پولیس سب کچھ جاننے کے باوجود مؤثر کارروائی نہیں کر رہے، جس سے مسائل میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال بالخصوص غریب اور سفید پوش طبقے کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن رہی ہے، جو روزمرہ سفر کے لیے ان رکشوں پر انحصار کرتے ہیں۔
شہریوں نے ڈپٹی کمشنر سے مطالبہ کیا ہے کہ رکشہ ڈرائیوروں کے لیے فی مسافر اور فی کلومیٹر کے حساب سے باقاعدہ کرایہ مقرر کیا جائے اور زائد کرایہ وصول کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
