جہلم: وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے باوجود مہنگائی کم نہ ہو سکی، اشیاء خورونوش کی قیمتیں آسمان پر بار ہا نشاندہی کے با وجود انتظامیہ ٹس سے مس نہ ہوئی، پرائس کنٹرول مجسٹریٹ فرضی کارروائیوں میں مصروف، بااثرمافیاز کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہیں۔
یکم جون سے یکم اکتوبر تک پیٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر 21 روپے 23 پیسے جبکہ ڈیزل 18 روپے 67 پیسے کم ہونے کے باوجود شہر سمیت چاروں تحصیلوں کے علاقوں کے باسیوں کو اشیاء خورونوش کی قیمتوں میں پھوٹی کوڑی کابھی ریلیف نہیں مل سکا، بڑھتی ہوئی مہنگائی نے غریب آدمی سے جینے کا حق چھین لیا۔ اشیاء خورونوش کی قیمتوں میں کمی واقع نہ ہوسکی جبکہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس روزانہ کی بنیاد پر خانہ پوری کرنے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔
دوسری جانب پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی عملی طور پرکارکردگی صفر ہے، مجسٹریٹس بڑے مگر مچھوں کوہاتھ ڈالنے کی بجائے چھوٹےدکانداروں، ریڑھی ٹھیلے والوں کو جرمانے کر کے بڑے کا روباری طبقے کو تحفظ فراہم کررہے ہیں جسکی وجہ سے بڑے دکاندار غریب نادار سفید پوش طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصروف ہیں۔
شہر کےعوامی، سماجی اور رفاعی حلقوں کا کہنا ہے پٹرولیم مصنوعات میں چند روپے اضافے کے ساتھ ہی مہنگائی کاطوفان برپا ہوجاتا ہے اور مسلسل پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے ثمرات عوام تک منتقل نہیں کیے جاتے جوکہ شہریوں کے ساتھ سخت زیادتی کے مترادف ہے۔
