شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا ہے کہ ایسی نشست یا محفل جس میں اللہ تعالیٰ، رسول اکرم ﷺ یا دین کا ذکر نہ ہو، انسان کو اس کے بارے میں روزِ قیامت جواب دینا ہوگا اور اس وقت پچھتاوا ہوگا کہ کاش ایسی محفل اختیار نہ کی ہوتی۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ اگر ایک محفل کے بارے میں اتنی سخت وعید ہے تو ہمیں اپنی پوری زندگی کا جائزہ بھی لینا چاہیے کہ ہمارے شب و روز کس حد تک اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم ﷺ کی یاد سے وابستہ ہیں اور ہم کتنا وقت لایعنی سرگرمیوں میں ضائع کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم اپنی ساری زندگی اصولِ تجویز کے تحت گزارنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ دینِ اسلام ہمیں اصولِ تفویض کے مطابق زندگی بسر کرنے کی رہنمائی عطا فرماتا ہے۔ اگر انسان اپنے کمالات اور صلاحیتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تفویض کردہ اصولوں پر عمل نہ کرے تو زندگی سے برکت اٹھ جاتی ہے اور آخرت میں ان تمام وسائل اور صلاحیتوں کے بارے میں جواب دینا ہوگا۔
امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ دینِ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ذرائع آمدن کیسے ہونے چاہئیں، معاشی اور معاشرتی زندگی کس طرح گزاری جائے، ذاتی معاملات سے لے کر زندگی کے ہر لمحے تک اسلام رہنمائی عطا کرتا ہے۔ حتیٰ کہ عبادات میں بھی اعتدال ضروری ہے اور حد سے تجاوز کے بارے میں بھی انسان سے سوال ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ بندے کو دل سے یہ اقرار کرنا چاہیے کہ جو کچھ موجود ہے وہ اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ہے اور میرے حصے میں جو کچھ آیا ہے وہ بھی میرے رب کریم کی عطا ہے۔ انسان کو اسی احساس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تفویض کردہ ذمہ داریوں اور اصولوں کے مطابق زندگی بسر کرنی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جس شخص پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہوتا ہے اسے قلبی سکون نصیب ہوتا ہے، جبکہ شیطان کی پیروی کرنے والا بے سکون اور خوف زدہ رہتا ہے، کیونکہ شیطان ازل سے انسان کا دشمن ہے۔ جو شخص شیطان کی پیروی کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔
امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ حق یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ سے ڈرے، پھر اسے کسی اور کا خوف نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے سے مراد یہ ہے کہ انسان کوئی ایسا عمل نہ کرے جس سے اس کا رب کریم ناراض ہو۔ یہی کیفیت تقویٰ کہلاتی ہے۔
انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح شعور عطا فرمائے، اپنے دین پر عمل کرنے کی توفیق دے اور اپنی رضا کے مطابق زندگی گزارنے والا بنائے۔
خطاب کے اختتام پر ملکی سلامتی، استحکام اور بقا کے لیے اجتماعی دعا بھی کی گئی۔
