محدود وسائل کے باوجود ڈگری کالج برائے خواتین میں طالبات کو معیاری تعلیم کی فراہمی جاری ہے، وائس پرنسپل طیبہ

دینہ: میڈم طیبہ نے کہا ہے کہ محدود وسائل اور نامساعد حالات کے باوجود کالج میں زیرِ تعلیم سینکڑوں طالبات کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کی بھرپور کوششیں جاری ہیں۔

دینہ پریس کلب کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین دینہ کی وائس پرنسپل طیبہ نے کہا کہ تدریسی عملے کی کمی پوری کرنے کے لیے حکومت پنجاب کی جانب سے کالج ٹیچنگ انٹرنز (CTIs) کی تقرری کا سلسلہ خوش آئند اقدام ہے، تاہم اگر اس کا عمل ستمبر اور اکتوبر کے بجائے جولائی اور اگست میں مکمل کر لیا جائے تو اس کے مزید مثبت اور مؤثر نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کالج میں فرسٹ ایئر کے داخلے اگست میں ہوتے ہیں جبکہ کلاسز ستمبر کے پہلے ہفتے میں شروع ہو جاتی ہیں۔ دوسری جانب کالج ٹیچنگ انٹرنز کی تقرری ستمبر اور اکتوبر میں ہونے کے باعث تعلیمی سال کے آغاز پر تدریسی عملے کی کمی کا سامنا رہتا ہے۔

وائس پرنسپل کے مطابق ستمبر میں کالج آنے والی طالبات کو جب تدریسی عملے کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ان میں سے بعض طالبات سرکاری کالج چھوڑ کر نجی کالجز کا رخ کر لیتی ہیں، جس سے سرکاری تعلیمی اداروں میں طلبہ و طالبات کے ڈراپ آؤٹ میں اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے اربابِ اختیار سے مطالبہ کیا کہ کالج ٹیچنگ انٹرنز کی تقرری کا عمل جولائی، اگست میں مکمل کیا جائے تاکہ ستمبر میں فرسٹ ایئر کی کلاسز کے آغاز کے ساتھ ہی تدریسی عملہ مکمل دستیاب ہو اور طالبات کو تعلیمی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

میڈم طیبہ نے کہا کہ بروقت تقرری سے نہ صرف تدریسی نظام مزید مؤثر ہوگا بلکہ سرکاری کالجز سے طلبہ و طالبات کے ڈراپ آؤٹ کی شرح میں بھی واضح کمی لائی جا سکے گی۔

Exit mobile version