دبئی: "دبئی اور خلیجی شہروں میں سیاحوں کو کیا ملے گا؟ صحرا؟ ریت؟ گرمی اور نمی؟” متحدہ عرب امارات کو سیاحت کے شعبہ سے کمائی کرنے والا دنیا کا چوتھا بڑا ملک قرار دیے جانے پر حاکم دبئی شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کو اپنی جوانی کے دور کے ایک اجلاس میں ہوئی گفتگو یاد آ گئی۔
تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کی جانب سے دنیا میں سیاحت کے شعبہ سے زیادہ کمائی والے ممالک کی فہرست جاری کی گئی ہے، جس میں متحدہ عرب امارات بڑے بڑے یورپی ممالک کو پیچھے چھوڑتے ہوئے سیاحتی شعبہ کے فروغ اور اس سے کمائی کے معاملے میں دنیا کا چوتھا بڑا ملک قرار دیا گیا ہے۔
قصة قصيرة ..
على هامش أحد اجتماعات مجلس التعاون في الثمانينات، وبينما كان الوزراء يتناقشون في الأزمات التي تمر بها المنطقة والتحديات التي لا تنتهي .. كنت في منتصف الثلاثينات وكنت أصغر من في الجلسة .. وأكثرهم مللاً من حديث السياسة الذي لا ينتهي .. طلبت الحديث،… pic.twitter.com/N7jGFhwkY6
— HH Sheikh Mohammed (@HHShkMohd) October 7, 2023
اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد حاکم دبئی شیخ راشد کی جانب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر جاری پیغام میں دہائیوں قبل متحدہ عرب امارات کے وزراء کے ہوئے ایک اجلاس کی دلچسپ تفصیلات بیان کی گئیں۔
حاکم دبئی بتاتے ہیں کہ 1980 کی دہائی میں کوآپریشن کونسل کے ایک اجلاس کے موقع پر جب وزراء خطہ کے بحرانوں اور لامتناہی چیلنجوں پر بات کر رہے تھے، تو میں اس اجلاس میں شریک سب سے کم عمر شخص تھا، عمر کے معاملے میں اس وقت میں 30 کی دہائی کے وسط میں تھا۔
اجلاس کے دوران نہ ختم ہونے والی سیاسی گفتگو سے بور ہو کر میں نے بات کرنے کی اجازت مانگی اور تجویز پیش کی کہ ہم خلیجی شہروں کو عالمی سیاحتی مقامات کے طور پر کیوں نہیں ترقی دیتے؟ اور کیا ہم اس منصوبے کا دبئی سے آغاز کر سکتے ہیں؟۔ شیخ راشد بتاتے ہیں کہ سب کی نظریں میری طرف متوجہ ہوئیں اور تھوڑی سی خاموشی چھا گئی۔
اس سے پہلے کہ کسی بڑے وزیر خارجہ کے قہقہے میں خلل پڑتا، میری تجویز پر ردعمل دیتے ہوئے کہا گیا کہ دبئی اور ہمارے خلیجی شہروں میں سیاحوں کو کیا ملے گا؟ صحرا؟ ریت؟ گرمی اور نمی؟ اور پھر باقی سب ہنس پڑے۔ پھر اس شخصیت نے اپنی تقریر میں تجربہ کا لہجہ شامل کیا اور کہا: شیخ محمد، دبئی میں ثقافتی اور تہذیبی ورثہ اور انسانی تاریخ ہے کہاں جس کا لوگ دورہ کر سکیں؟۔
حاکم دبئی بتاتے ہیں کہ انہوں نے اس شخصیت کے ساتھ بحث نہیں کی، لیکن مجھے دکھ ہوا کیونکہ ہم اپنی دولت کا بہتر استعمال نہیں کرتے، ہمیں اپنی جوانی پر بھروسہ نہیں، اور ہم اس کے علاوہ کسی اور چیز کی کوشش نہیں کرتے جو ہم جانتے ہیں اور جن سے ہم واقف ہیں۔ شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے بتایا کہ 2 روز قبل اقوام متحدہ کی عالمی سیاحتی تنظیم کی رپورٹ جاری کی گئی تھی۔
متحدہ عرب امارات بین الاقوامی سیاحتی اخراجات میں دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے، صرف گزشتہ سال مجموعی طور پر 224 ارب درہم اخراجات کے ساتھ متحدہ عرب امارات نے فرانس، اٹلی، ترکی اور جرمنی جیسے قدیم ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ بین الاقوامی سیاحتی اخراجات کی درجہ بندی میں صرف امریکہ، سپین اور برطانیہ ہم سے آگے ہیں۔ میں نے رپورٹ پڑھی اور اپنے دوست وزیر خارجہ یاد آ گئے۔
