واشنگٹن: امریکی کانگریس میں رکن اسمبلی رشیدہ طلیب نے فلسیطینی کے حق میں احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی نوجوانوں کو چاہے اسرائیل میں قتل کیا جائے یا کوئی نسل پرست امریکا میں کسی فلسطینی کو مار دے، دونوں یکساں جرم اور قابل مذمت ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی کانگریس کی فلسطینی نژاد رکن رشیدہ طلیب نے پارلیمنٹ میں اپنی تقریر کے دوران فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ان کا روایتی رومال پہن رکھا تھا۔
رشیدہ طلیب خود بھی فلسطینی نژاد ہیں، انھوں نے اپنی تقریر میں امریکا میں چاقو بردار شخص کے حملے میں قتل کیے جانے والے 6 سالہ فلسطینی بچے اور فائرنگ کے واقعے میں تین فلسطینی طالب علموں کے زخمی ہونے پر شدید احتجاج کیا۔
Hisham, Kinnan, and Tahseen, all Palestinian students, were shot while speaking Arabic and wearing the same keffiyehs that I wear. The dehumanizing rhetoric repeated by our elected officials is inciting violence against Palestinians and it must stop. pic.twitter.com/HwAm8hZIsT
— Congresswoman Rashida Tlaib (@RepRashida) December 2, 2023
امریکی رکن پارلیمنٹ رشیدہ طلیب نے اسمبلی میں کہا کہ امریکا میں ہونے والے اسلامو فوبیا واقعات تشویش ناک ہیں قتل اور زخمی کیے جانے والا کا صرف اتنا قصور تھا کہ وہ عربی زبان بولتے تھے اور فلسطینی تھے۔
مسلم رکن اسمبلی نے کہا کہ امریکی عہدیدار فلسطینیوں کے خلاف غیر انسانی بیانات دیکر تشدد کو ہوا دے رہے ہیں۔ اسلاموفونیا اور نفرت کی آگ میں مسلمانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے۔
رشیدہ طلیب نے مطالبہ کیا کہ امریکا کو اپنا دہرا معیار ختم کرنا ہوگا۔ فلسطینیوں پر ظلم اسرائیل میں ہو یا امریکا میں، قابل مذمت ہے۔
