امریکا، کینیڈا، آسٹریلیا میں بھارتی سفارتخانے کے باہر سکھوں کا کسانوں کے حق میں احتجاج

امریکا، کینیڈا اور آسٹریلیا میں سکھوں نے بھارت کے خلاف احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے آزاد خالصتان کے حق میں نعرے لگائے، ساتھ ہی مودی سرکار کو کسانوں کا قاتل قرار دے دیا۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق امریکی شہر سان فرانسیسکو میں سکھوں نے بھارتی سفارتخانے کے سامنے مظاہرہ کرتے ہوئے مودی سرکار کے خلاف نعرے بلند کیے۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا بھارتی کسانوں سے انصاف کیا جائے۔

اس کےعلاوہ کینیڈا کے شہر وینکور میں بھی سکھوں نے احتجاج کرتے ہوئے مودی کو دہشت گرد قرار دیا۔

آسٹریلیا کے شہر میلبرن میں بھی بھارتی قونصل خانے کے سامنے مودی سرکار کے خلاف آواز اٹھائی گئی ۔

بھارتی کسان احتجاج کیوں کررہے ہیں؟

احتجاجی کسانوں نے گذشتہ ہفتے 13 فروری کو دہلی کی طرف مارچ شروع کیا تھا لیکن انہیں دارالحکومت سے تقریباً 200 کلومیٹر دور روک دیا گیا تھا جس کے بعد کسان رہنما اپنے مطالبات پر حکومت سے مذاکرات کر رہے تھے۔

تاہم 21 فروری کو اب کسان رہنماؤں کی جانب سے حکومتی تجاویز کو مسترد کر دیا تھا اور دوبارہ دہلی کی طرف مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق مذاکرات کے دوران مودی حکومت نے کسانوں کو یقین دہانی کروائی تھی کہ حکومت 5 سالہ معاہدے کے تحت کسانوں سے اناج خریدے گی تاہم احتجاجی کسانوں کی طرف سے کہا گیا کہ حکومتی پیشکش ’ہمارے مفاد میں نہیں۔‘

کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مطالبات پر اب بھی قائم ہیں اور چاہتے ہیں کہ حکومت انھیں تمام 23 اناج ’منیمم سپورٹ پروگرام‘ کے تحت خریدنے کی ’قانونی گارنٹی‘ دے۔

بھارتی کاشت کاروں نے 2021 میں بھی ایسا ہی احتجاج کیا تھا، کاشت کار یوم جمہوریہ کے موقعے پر رکاوٹیں توڑتے ہوئے شہر میں داخل ہو گئے تھے۔

Exit mobile version