مہنگائی میں کمی کے حکومتی دعوے ٹھس، منافع خوری اور گراں فروشی عروج پر

جہلم: مہنگائی کے خاتمے کے حکومتی دعوے دم توڑ گئے ہیں، جبکہ منافع خوری اور گراں فروشی اپنے عروج پر ہیں۔ ضلع جہلم مصنوعی مہنگائی کے حوالے سے پنجاب بھر میں نمایاں نمبر پر آ چکا ہے۔ روزمرہ کی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔

شہر میں چکن سرکاری نرخ 597 روپے فی کلوگرام کے بجائے 650 روپے میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ بعض جگہوں پر مرغی کا گوشت 750 روپے فی کلو تک جا پہنچا ہے۔ چھوٹا گوشت سرکاری نرخ 1600 روپے کی بجائے 2200 سے 2500 روپے فی کلوگرام ، بڑا گوشت 800 روپے کی بجائے 1200 روپے فی کلوگرام، پیاز 170 روپے، آلو 90 روپے، ٹماٹر 200 روپے، لہسن چائنہ 750 روپے، مٹر 250 روپے فی کلو، کینو 400 روپے فی درجن جبکہ دیگر پھل بھی دوگنی قیمت پر فروخت ہو رہے ہیں۔

انڈے، دودھ، دہی، ایل پی جی گیس، اور مصالحہ جات سمیت تمام روزمرہ اشیاء سرکاری نرخنامے سے زائد قیمتوں پر فروخت ہو رہی ہیں۔ شہری انتظامیہ کی جانب سے گراں فروشی کے خلاف کوئی مؤثر اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے مہنگائی کا گراف پنجاب بھر میں بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔

مہنگائی کے ہاتھوں عام آدمی زندہ درگور ہو چکا ہے۔ دیہاڑی دار مزدور اور سفید پوش طبقہ بے بسی کی تصویر بن چکا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے مہنگائی کنٹرول کرنے کے لیے کیے جانے والے اعلانات صرف خوبصورت نعرے ثابت ہوئے ہیں۔

شہریوں نے انتظامیہ کی نااہلی پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ عوامی سروے کے دوران لوگوں نے بتایا کہ مہنگائی کنٹرول کرنے کے لیے مجسٹریسی نظام بری طرح ناکام ہو چکا ہے، اور مصنوعی مہنگائی نے لوگوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔

عوام نے حکومت اور انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر گراں فروشی کے خلاف سخت کارروائی کریں اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات کریں تاکہ عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔

Exit mobile version