لندن میں قتل کی وارداتوں کا سلسلہ جاری رواں برس تعداد 80 ہو گئی

لندن: میٹروپولیٹن پولیس کی کاوشوں اور نائف ایمنسٹی کی اسکیموں کے اجرا کے باوجود لندن میں قتل کی وارداتوں کا سلسلہ جاری ہے اور اتوار کو شمالی لندن کے علاقے ایڈسٹن میں 15سالہ لڑکے کے قتل کے بعد رواں برس قتل کئے جانے والے افراد کی تعداد 80ہو گئی ہے جن میں 16 ٹین ایجر بھی شامل ہیں، جن میں سے دو کو گولی اور 14 کو خنجر مار کر قتل کیا گیا۔

بدھ27ستمبر کو جنوبی لندن کے علاقے کرائیڈن میں پرائیوٹ اسکول کی طالبہ 15 سالہ علینا اینڈم کو اسکول جاتے ہوئے گردن میں چھری مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ علینا کے قتل کے الزام میں پولیس نے17 سالہ نوجوان کو گرفتار کرکے اس پر قتل کا الزام عائد کر دیا ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ برس 2022میں 112 افراد کو قتل کیا گیا تھا جب کہ 2021میں یہ تعداد 124 تھی۔ 2017میں لندن میں قتل کی 159 وارداتیں ہوئی تھیں۔ علینا اینڈم کے قتل کے بعد میئر لندن صادق خان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد وبا کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ لڑکوں کو پرائمری اور خصوصاً سیکنڈری اسکول میں خواتین سے برتاؤ کے حوالے سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔

صادق خان نے حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ ’’زومبی نائفس‘‘ کے خلاف کریک ڈاؤن کیلئے قانون سازی کا عمل تیز کیا جائے اور ان کی آن لائن فروخت پرپابندی عائد کی جائے۔ ہوم آفس نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ وہ تشدد کی بنیادی وجوہ کو حل کرنے کیلئے پرعزم ہے۔

ہوم آفس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ بغیر کسی معقول وجہ کے تین انچ سے بڑی بلیڈ والی چیز عوام میں لےکر جانا یا اس کو بطور ہتھیار استعمال کرکے کسی کو دھمکانا پہلے ہی جرم ہے اور وہ ان ہتھیاروں کو ضبط کرنے کے حوالے سے پولیس افسران کو مزید اختیارات بھی دیئے جا رہے ہیں۔

حکومت نے چاقو کے جرائم کو روکنے کیلئے متعدد منصوبوں میں سرمایہ کاری بھی کی ہے اور 2019 سے اب تک تشدد سے متاثرہ 20 علاقوں میں حالات کی بہتری کیلئے 170 ملین پاؤنڈ کی رقم دی جا چکی ہے۔

Exit mobile version