جہلم: فارمی چکن گوشت کی قیمتوں میں چند دن قابو میں رہنے کے بعد ایک بار پھر آسمان تک پہنچ گئیں۔
پنجاب حکومت کی ہدایات پر محکمہ لائیو اسٹاک کی تجویز پر مارکیٹ کمیٹی نے فارمی مرغی کے گوشت کے نرخ 600 روپے فی کلو سے کم ظاہر کرنے پر مجبور کر دیا تھا، تاہم اس کے باوجود قیمتوں میں کمی کا کوئی خاطر خواہ اثر نہیں پڑا۔
رپورٹس کے مطابق جہلم شہر میں سرکاری نرخ 599 روپے ہونے کے باوجود فارمی چکن گوشت 650 روپے فی کلو تک فروخت ہونے لگا ہے، جبکہ دیہاتوں میں یہ قیمت 670 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ اس صورت حال نے عوامی حلقوں میں تشویش اور غصہ پیدا کر دیا ہے، کیونکہ قیمتوں میں مسلسل اضافے سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
چکن گوشت فروشوں کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار صرف فارم مالکان، سپلائرز اور بروکرز ہیں، جنہوں نے قیمتوں کو مصنوعی طور پر بڑھا دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دکاندار یا ٹھیہ والے صرف معمولی منافع پر چکن گوشت فروخت کرتے ہیں، جو ان کا حق بنتا ہے۔
عوامی حلقے اس بات پر برہم ہیں کہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس چھوٹی مچھلیوں پر کارروائی کرنے کی بجائے بڑے مگرمچھوں پر ہاتھ ڈالیں، تاکہ برائلر مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں کمی لائی جا سکے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر حکومتی ادارے مارکیٹ میں حقیقی قیمتوں کا تعین کرنے والوں کے خلاف کارروائی کریں تو قیمتوں میں استحکام آ سکتا ہے۔
