امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ اللہ کریم نے اس کرہ ارض پر تمام مخلوقات کو انسان کی خدمت پر مامور کر رکھا ہے، جو دن رات اشرف المخلوقات کی خدمت میں مصروف ہیں۔ ظاہری نعمتوں کے ساتھ ساتھ باطنی نعمتوں سے روشناس کرانے کے لیے اللہ کریم نے انبیائے کرام مبعوث فرمائے، جو انسانیت کو اس مادی دنیا سے آگے کی حقیقت سے آگاہ کرتے ہیں۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نے مرکز دارالعرفان منارہ میں منعقدہ دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع سے واشنگٹن امریکہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کریم خالق ہیں اور وہی بہتر جانتے ہیں کہ کس مخلوق کو کیا مقام اور کتنی استعداد عطا کرنی ہے۔ ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ اتنی نعمتوں کے عطا ہونے کے بعد ہم اللہ کریم کا شکر کس طرح ادا کر رہے ہیں اور کیا ہماری زندگی اتباعِ الٰہی و سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ہے؟
انہوں نے کہا کہ ربِ کائنات نے ہمیں کیفیاتِ قلبی سے منسلک فرمایا ہے، جو اللہ کریم کا بہت بڑا احسان ہے۔ ہر انسان جانتا ہے کہ اسے اس دنیا سے رخصت ہونا ہے، لیکن اللہ کریم سے دعا ہے کہ یہ احساس ایسی قوت کے ساتھ نصیب ہو جو انسان کو عملی زندگی میں بھی درست راستے پر چلنے کی توفیق عطا کرے۔ دینی ہو یا دنیاوی معاملات، بندہ مومن کے شایانِ شان نہیں کہ اس کے قول اور سوچ میں تضاد ہو۔ بعض اوقات انسان دین کی بات تو بیان کر رہا ہوتا ہے، لیکن اس کے باطن میں دین کی وہ کیفیت موجود نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کا عمل اس کے قول کے مطابق ہوتا ہے۔ انسان کو غور کرنا چاہیے کہ عمل سے دوری اسے گراتے گراتے کہاں تک پہنچا سکتی ہے۔
امیر عبدالقدیر اعوان نے مزید کہا کہ کیفیاتِ قلبی انسان کو ایسی ترقی عطا کرتی ہیں جس سے اسے اپنا محاسبہ کرنے اور اپنی اصل حیثیت کا ادراک نصیب ہوتا ہے۔ انسان کو خود اپنا جائزہ لینا چاہیے کہ وہ کس مقام پر کھڑا ہے اور اس کے اعمال کس سمت جا رہے ہیں۔
انہوں نے ذکر و اذکار، لطائف اور مراقبات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان تمام معاملات میں ہمیشہ اپنا معاملہ اللہ کریم کے سپرد رکھنا چاہیے۔ جہاں انسان اپنی ذات اور اپنے کمال کو درمیان میں لے آتا ہے، وہاں غلطی کا امکان پیدا ہو جاتا ہے۔ خواہ کوئی ذمہ دار ہو یا سالک، ہم سب ایک امتحان گاہ میں ہیں اور ہر شخص کے لیے ضروری ہے کہ زندگی کی آخری سانس تک محتاط رہے۔
انہوں نے کہا کہ شکر گزاری ایک اہم پہلو ہے، جس میں ذاتِ باری تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔ جب انسان کسی کامیابی یا بھلائی کو اپنا کمال سمجھنے لگتا ہے تو اس کی شکر گزاری کا جذبہ متاثر ہوتا ہے۔ بظاہر ایک چھوٹی سی سوچ بھی انسان کے لیے بہت بڑا امتحان بن سکتی ہے۔
امیر عبدالقدیر اعوان نے دعا کی کہ اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں اور صدقِ دل سے دین پر عمل پیرا ہونے کی توفیق نصیب فرمائیں۔ خطاب کے اختتام پر انہوں نے امتِ مسلمہ اور وطنِ عزیز پاکستان کی سلامتی، استحکام اور بھلائی کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی۔
