جہلم میں نگہبان رمضان پیکیج اور رمضان بازاروں کی کارکردگی پر شہریوں نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران مہنگائی پر قابو پانے کے دعوے عملی طور پر نظر نہیں آ رہے۔ شہریوں کے مطابق بازاروں میں اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بدستور زیادہ ہیں جبکہ سرکاری نرخوں پر عملدرآمد بھی مؤثر انداز میں دکھائی نہیں دیتا۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ رمضان بازاروں میں دکانداروں کو اشیائے خوردونوش اور فروٹ سستے داموں فراہم نہیں کیے جا رہے جس کے باعث ریلیف کا مقصد پوری طرح حاصل نہیں ہو پا رہا۔ بعض شہریوں کے مطابق پھل اور سبزیاں بھی معیار کے مطابق فراہم نہیں کی جاتیں جبکہ عام مارکیٹ میں ان اشیاء کی قیمتیں بدستور زیادہ ہیں۔
اسی طرح گوشت کی قیمتوں کے حوالے سے بھی شکایات سامنے آ رہی ہیں کہ مقررہ نرخوں پر عملدرآمد مکمل طور پر یقینی نہیں بنایا جا رہا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بعض قصاب رمضان بازاروں میں محدود مقدار میں گوشت فراہم کرتے ہیں جبکہ عام مارکیٹ میں اپنی مرضی کے نرخ وصول کیے جاتے ہیں۔
شہری حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر ہول سیل سطح پر مؤثر نگرانی کا نظام قائم کیا جائے تو پرچون سطح پر قیمتوں کو قابو میں لانا آسان ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بعض شہریوں نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی کارروائیاں زیادہ تر چھوٹے دکانداروں تک محدود رہتی ہیں جبکہ بڑے ذخیرہ اندوز اور گراں فروش اکثر کارروائی سے بچ جاتے ہیں۔
شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں، رمضان بازاروں کی نگرانی کو مزید بہتر بنایا جائے اور گراں فروشی کے مرتکب عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
