بچوں کا پہلی بار جووینائل کارڈ بنوانا چاہتے ہیں تو یہ باتیں یاد رکھیں

جہلم: نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے بچوں کا پہلی بار جووینائل کارڈ بنوانے کے خواہش مند والدین کیلیے ہدایات جاری کر دیں۔

نادرا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اگر آپ اپنے بچے یا بچی کا پہلی بار جووینائل کارڈ بنوانا چاہتے ہیں تو درخواست دینے سے پہلے مطلوبہ دستاویزات مکمل کر لیں۔

بیان میں کہا گیا کہ والدین یا قانونی سرپرست کا شناختی کارڈ نمبر اور بچے کا ب فارم (اگر بن چکا ہے) یا تصدیق شدہ کمپیوٹرائزڈ برتھ سرٹیفکیٹ کا سی آر ایم ایس نمبر درکار ہوگا۔

علاوہ ازیں، بچے کی بیرونِ ملک پیدائش کی صورت میں غیر ملکی تفصیلی برتھ سرٹیفکیٹ یا S1 فارم یا شہریت یا نیچرلائزیشن سرٹیفکیٹ ضروری ہے، والدین یا قانونی سرپرست میں سے کسی ایک کی بائیومیٹرک تصدیق کی جائے گی۔

نادرا نے کہا کہ جووینائل کارڈ کیلیے بچے کی موجودگی ضروری ہے، درخواست کیلیے قریبی نادرا رجسٹریشن سینٹر تشریف لائیں۔

جووینائل کارڈ کیا ہے اور کیوں ضروری ہے؟

اگر آپ اپنے 18 سال سے کم عمر بچوں کا شناختی کارڈ بنوانا چاہتے ہیں تو پریشان نہ ہوں، نادرا نے جووینائل کارڈ کی شکل میں یہ مشکل آسان کر دی ہے۔

نادرا جووینائل کارڈ 18 سال سے کم عمر کے پاکستانی بچوں کیلیے جاری کردہ ایک اسمارٹ شناختی کارڈ ہے جو روایتی ب فارم (سی آر سی) کی جدید شکل ہے، یہ کارڈ نادرا سینٹر یا ’پاک آئیڈنٹٹی‘ موبائل ایپ کے ذریعے بنوایا جا سکتا ہے۔

پاکستان میں بچوں کی پیدائش کی رجسٹریشن کا عمل اب پہلے سے زیادہ آسان اور جدید بنا دیا گیا ہے۔ برتھ نوٹیفکیشن ٹول کے ذریعے بچے کی پیدائش کے فوراً بعد والدین کو ایس ایم ایس موصول ہوتا ہے، جو یونین کونسل میں چائلڈ برتھ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ بنوانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

3 سال سے کم عمر بچوں کیلیے تصویر، بائیو میٹرک یا بچے کی جسمانی موجودگی ضروری نہیں، والدین میں سے ایک درخواست دیتا ہے جبکہ دوسرا تصدیق کرتا ہے۔

تین سال مکمل ہونے پر بچے کی تصویر ریکارڈ کا حصہ بنتی ہے جبکہ 10 سال کی عمر کے بعد بائیومیٹرک اور دیگر شناختی معلومات شامل کی جاتی ہیں۔

جووینائل کارڈ دراصل ب فارم کی کارڈ نما شکل ہے جسے تعلیمی اداروں اور دیگر مقاصد کیلیے متعارف کروایا گیا ہے۔ یہ کارڈ 18 سال کی عمر تک کارآمد رہتا ہے، جس کے بعد قومی شناختی کارڈ بنوانا ضروری ہوتا ہے۔

↑
Exit mobile version