جہلم ضلع بھر میں چیک اینڈ بیلنس کا نظام مبینہ طور پر مفلوج ہونے کے باعث اشیائے خورونوش کی سرکاری نرخوں پر فروخت یقینی نہ بنائی جا سکی۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پیرا فورس، پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور انتظامیہ کی عدم توجہی کے باعث قصابوں اور تندور مالکان کو من مانی قیمتیں وصول کرنے کی کھلی چھوٹ مل گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق گائے کے گوشت کا سرکاری نرخ 900 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم شہریوں کے مطابق قصاب اسے 1200 روپے فی کلو جبکہ قیمہ 1400 روپے فی کلو فروخت کر رہے ہیں۔
اسی طرح بکرے کے گوشت کا سرکاری نرخ 1700 روپے فی کلو مقرر ہونے کے باوجود مبینہ طور پر 2200 سے 2300 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب روٹی کا سرکاری نرخ 14 روپے مقرر ہے، تاہم تندور مالکان کی جانب سے مبینہ طور پر روٹی 20 روپے میں فروخت کی جا رہی ہے۔
شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی کے موجودہ دور میں سرکاری نرخ ناموں پر عملدرآمد نہ ہونے سے غریب اور سفید پوش طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔
عوامی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ جہلم میں قیمتوں پر مؤثر چیک اینڈ بیلنس یقینی بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کو متحرک کیا جائے اور سرکاری نرخوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے۔
