جہلم میں خشک میوہ جات کے نرخ آسمان کو چھونے لگے، شہری پریشان

جہلم: سردیوں کی سوغات خشک میوہ جات کی قیمتیں ساتویں آسمان پر پہنچ گئی ہیں، جس نے عام شہریوں کی پہنچ سے ان نعمتوں کو دور کر دیا ہے۔

دکانداروں نے خود ساختہ نرخ مقرر کر کے بادام، کاجو، پستہ، اخروٹ، چلغوزہ، کشمش، کھجور، مونگ پھلی اور انجیر کو عام آدمی کے لیے دیکھنے کی چیز بنا دیا ہے۔

شہر کے وسط شاندار چوک، گلی محلوں اور مین راستوں پر دکانوں اور ریڑھیوں پر خشک میوہ جات انتہائی مہارت سے سجائے گئے ہیں، مگر ان کے نرخ سنتے ہی شہری استغفار کرتے ہوئے دکانوں سے واپس چلے جاتے ہیں۔

انتظامیہ کی خاموشی اس صورتحال کو مزید خراب کر رہی ہے جبکہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی گراں فروشی کی روک تھام میں ناکامی نے شہریوں کو مایوس کر دیا ہے۔ دکانداروں کی من مانیاں عروج پر ہیں اور سرکاری نرخ نامے کے بغیر خشک میوہ جات فروخت کیے جا رہے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ مجبوری کے عالم میں مہنگے داموں خشک میوہ جات اور دیگر اشیاء خریدنے پر مجبور ہیں۔ شہریوں نے ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر نوٹس لیا جائے اور گراں فروشی کے مرتکب دکانداروں کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے مقدمات درج کیے جائیں تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔

Exit mobile version