جہلم: ہم یمنی حوثی باغیوں کے سعودی عرب پر حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، حافظ عبدالحمید عامر

جہلم: جامعہ علوم اثریہ جہلم کے زیرِ اہتمام 43ویں سالانہ جلسہ تقسیم اسناد و انعامات اور تقریب صحیح بخاری کا انعقاد کیا گیا، جس میں ملک بھر سے جید علمائے کرام، دینی شخصیات اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ علوم اثریہ جہلم کے مہتمم اور نائب امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان حافظ عبدالحمید عامر نے یمنی حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کی شدید مذمت کی، جبکہ دیگر مقررین نے عقیدۂ توحید، حدیث نبوی کی اہمیت، اصلاحِ معاشرہ، اخلاقِ نبوی اور نوجوان نسل کی دینی تعلیم و تربیت کے حوالے سے تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔

جامعہ علوم اثریہ جہلم کے مہتمم حافظ عبدالحمید عامر نے اپنے خطاب کے دوران جلسہ عام میں ایک قراردادِ مذمت پیش کی، جس میں سعودی عرب کی سرحدوں اور اس مقدس سرزمین کے مضافات میں یمنی حوثی باغیوں کی جانب سے مبینہ طور پر کیے جانے والے مسلسل ڈرون اور میزائل حملوں کی شدید مذمت کی گئی۔ قرارداد میں ان کارروائیوں کو امتِ مسلمہ کے جذباتِ ایمانی کے ساتھ کھلم کھلا کھلواڑ اور عالمی امن کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا۔ اجتماع میں شریک افراد نے ہاتھ کھڑے کرکے قرارداد کی مکمل تائید کی۔

اصلاحِ معاشرہ میں علمائے کرام کی خدمات سے انکار ممکن نہیں. پروفیسر عبداللہ ناصر رحمانی

کراچی سے تشریف لانے والے پروفیسر عبداللہ ناصر رحمانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عقیدۂ توحید مسلمان کے افکار و نظریات کی اساس ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی معرکۃ الآراء کتاب صحیح بخاری میں عقیدۂ توحید کو وضاحت اور دلائل کے ساتھ بیان کیا اور باطل نظریات کا مؤثر رد کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اصلاحِ معاشرہ میں علمائے کرام کی کاوشوں کا کوئی منصف مزاج شخص انکار نہیں کر سکتا۔ موجودہ پُرفتن دور میں اسلامی اقدار کے احیا اور دینی شعور کی بقا کے لیے علمائے دین کی خدمات اور دینی مدارس کا کردار قابلِ فخر ہے۔

پروفیسر عبداللہ ناصر رحمانی نے کہا کہ وعظ و تبلیغ سے وابستہ علمائے کرام اور داعیانِ اسلام کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی اصلاح، تعلیم و تربیت اور معاشرے میں مثبت رویوں کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ بڑھتی ہوئی منفی سوچ اور عدم برداشت کو کم کرنے کے لیے بھی سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اختلافات کے باوجود ادب و احترام اور اسلاف کے متعین کردہ اسلوب کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے۔

صحیح بخاری شریف کو کتبِ احادیث میں امتیازی مقام حاصل ہے. مولانا سیف اللہ اثری

جامعہ اثریہ کے شیخ الحدیث مولانا سیف اللہ اثری نے اپنے خطاب میں امام بخاری رحمہ اللہ کی علمی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ امام بخاری محدثینِ کرام میں ایک تابندہ و درخشندہ ستارہ ہیں اور انہیں علمِ حدیث میں انتہائی بلند مقام حاصل ہے۔ ان کی تصنیف صحیح بخاری شریف تمام کتبِ احادیث میں امتیازی مقام رکھتی ہے، جس میں انہوں نے بڑی تحقیق، جانچ پڑتال اور احتیاط کے ساتھ صحیح احادیث کا ایک عظیم مجموعہ مرتب کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج الحاد کے فتنے کے ساتھ انکارِ حدیث کا فتنہ بھی نمایاں ہے۔ دینی تعلیمات سے صحیح طور پر ناواقف بعض افراد یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کی رہنمائی کے لیے صرف قرآن کریم کافی ہے، حالانکہ احادیثِ نبویہ کو نظر انداز کرکے ہدایت کے مکمل راستے کو سمجھنا ممکن نہیں۔ انہوں نے حدیثِ نبوی کی اہمیت اور دینی زندگی میں اس کی رہنمائی کو اجاگر کیا۔

توحید کا فروغ امن و سلامتی کا ذریعہ ہے. ڈاکٹر قاری خلیل الرحمن جاوید

سوشل میڈیا پر معروف عالم ڈاکٹر قاری خلیل الرحمن جاوید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ رب العزت کی ذات کے ساتھ شرک کرنا انسانیت کا سب سے بڑا ظلم اور ناانصافی ہے۔ عقیدۂ توحید کی ترویج معاشرے میں امن و سلامتی اور رحمتِ الٰہی کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ گمراہی اور ضلالت سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ دینی معاملات میں اسلاف کے راستے اور ان کی تعلیمات کو اختیار کیا جائے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اسلام کے اولین پاسبان ہیں، اس لیے ان کے بارے میں نازیبا گفتگو درحقیقت ذخیرۂ حدیث پر اعتراض کے مترادف ہے، جسے دینی اعتبار سے نہایت اہم معاملہ سمجھا جانا چاہیے۔

صحابہ کرام کا احترام ہمارے ایمان کا حصہ ہے. مولانا سید سبطین شاہ نقوی

مولانا سید سبطین شاہ نقوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عزت و توقیر ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور ان کے خلاف زبان درازی انسان کو ضلالت و گمراہی کی طرف لے جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دینی معاملات میں اسلاف کے اسلوب اور منہج کو اختیار کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی مقدس سرزمین عالمِ اسلام کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے اور ان کے دفاع کو مسلمانوں کے ایمان کا لازمی جزو سمجھا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان نسل کے قلوب و اذہان میں یہ شعور بیدار کرنا ضروری ہے کہ اسلام کو بیرونی فتنوں اور سازشوں کے ساتھ اندرونی اختلافات اور فتنہ انگیزیوں جیسے چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ ان حالات میں دینی شعور، اتحاد اور اسلاف کی تعلیمات سے وابستگی اہمیت رکھتی ہے۔

اخلاقِ نبوی معاشرتی مسائل کا بہترین حل ہے. مولانا یوسف پسروری

لاہور سے تشریف لانے والے مولانا یوسف پسروری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اخلاق و کردار سمیت زندگی کے تمام پہلوؤں میں ہمارے لیے بہترین نمونہ ہیں۔ معاشرے میں باہمی محبت، الفت اور بھائی چارے کو فروغ دینے کے لیے اخلاقِ نبوی کی پیروی ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر معاشرے میں برداشت، احترام، ہمدردی اور باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے تو بہت سے سماجی مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی عملی زندگی میں اپنانے کی ضرورت ہے۔

قرآن کریم کی طرح حدیث کی حفاظت بھی اللہ تعالیٰ کے وعدے میں شامل ہے. مولانا سیف اللہ خالد ملتانی

مولانا سیف اللہ خالد ملتانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے اور حدیثِ نبوی کی حفاظت کے لیے بھی اسباب پیدا فرمائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی طرح حدیث بھی وحیِ الٰہی ہے اور مسلمانوں کے ہاں حدیث کی حجیت ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ دینی تعلیمات کو صحیح طور پر سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کے لیے قرآن و سنت دونوں سے رہنمائی حاصل کرنا ضروری ہے۔

تقریب میں 61 طلباء میں اسناد و انعامات تقسیم

جامعہ علوم اثریہ جہلم کے 43ویں سالانہ جلسہ تقسیم اسناد و انعامات اور تقریب صحیح بخاری کے دوران جامعہ سے سندِ فراغت حاصل کرنے والے اور مختلف انعامی مقابلوں میں نمایاں پوزیشنیں حاصل کرنے والے مجموعی طور پر 61 طلباء میں اسناد و انعامات تقسیم کیے گئے۔

تقریب کے دوران اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مدیر الجامعہ حافظ احمد حقیق، حافظ عبدالغفور مدنی، مولانا سعد محمد مدنی، مولانا عکاشہ مدنی اور مولانا عمر عبدالحمید نے سرانجام دیے۔

تقریب میں جہلم کے علاوہ تحصیل دینہ، تحصیل سوہاوہ، تحصیل پنڈدادنخان، چکوال، منڈی بہاؤالدین، گجرات، میرپور آزاد کشمیر، گوجر خان، کلر سیداں، دولتالہ اور دیگر علاقوں سے لوگوں نے قافلوں کی صورت میں بڑی تعداد میں شرکت کی۔

جامعہ علوم اثریہ جہلم کا یہ سالانہ اجتماع دینی تعلیم، علمِ حدیث، عقیدۂ توحید، اصلاحِ معاشرہ اور طلباء کی علمی حوصلہ افزائی کے حوالے سے منعقد کیا گیا، جس میں مقررین نے دینی اقدار کے فروغ، اخلاقی تربیت، باہمی احترام اور نوجوان نسل کی فکری رہنمائی کی اہمیت پر زور دیا۔

↑
Exit mobile version