جہلم: پاکستان کی سیاسی و جمہوری تاریخ میں 4 اپریل کو ایک سیاہ ترین دن کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، جب ملک کے پہلے منتخب وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو کو عدالتی فیصلے کے ذریعے پھانسی دی گئی۔
پاکستان پیپلز پارٹی ضلع جہلم کے رہنما مہر قیصر نے یومِ شہادت کے موقع پر اپنے بیان میں کہا کہ 4 اپریل دراصل جمہوری آواز کو دبانے، آئینی و انسانی حقوق سلب کرنے اور عوامی مینڈیٹ کی توہین کا دن ہے۔
انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے، جنہوں نے پاکستان کو متفقہ آئین دیا، دفاع کو مضبوط بنایا اور اسلامی دنیا کو یکجا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
مہر قیصر کا کہنا تھا کہ قائدِ عوام کے عدالتی قتل نے پاکستان کو سیاسی و جمہوری طور پر پیچھے دھکیل دیا اور یہ واقعہ آج بھی ایک متنازع باب کے طور پر زیرِ بحث ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعد ازاں پارلیمان کی جانب سے انہیں قومی ہیرو قرار دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ بھٹو تاریخ میں سرخرو رہیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھٹو شہید نے عوام میں سیاسی شعور بیدار کیا اور مزدوروں، کسانوں اور پسے ہوئے طبقات کو آواز دی۔ ان کی قربانی آج بھی جمہوریت کے لیے جدوجہد کرنے والوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
مہر قیصر نے عزم ظاہر کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اپنے قائد کے نظریات، آئین کی حکمرانی اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی اور قوم ہمیشہ ذوالفقار علی بھٹو کی خدمات کو یاد رکھے گی۔
