جہلم: سردی کی شدت آہستہ آہستہ بڑھنے لگی، بچے اور نوجوان بیماریوں میں مبتلا ہونے لگے

جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں سردی کی شدت آہستہ آہستہ بڑھنے لگی ، بچے اور نوجوان بغیر سوئیٹر ، ٹوپی ، مفلر کے استعمال سے بیماریوں میں مبتلا ہونے لگے۔ ڈاکٹرز بچوں، نوجوانوں ، بزرگوں ، خواتین کو سردی سے بچاؤ کے لئے گرم ملبوسات کے استعمال کرنے کا مشورہ دینے لگے تاکہ بیماریوں سے محفوظ رہا جا سکے ۔

تفصیلات کے مطابق شہر سمیت ضلع بھر میں سردی کی شدت میں آہستہ آہستہ اضافہ ہونے لگا۔ بچے ، نوجوان نسل و خواتین اپنی پرانی روٹین کے مطابق سادہ لباس استعمال کررہے ہیں جس سے ٹھنڈ لگنے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔

ڈاکٹرز کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جب موسم تبدیل ہوتا ہے تو تبدیلی کے ساتھ ہی نزلہ زکام بھی اپنی آمدکی خبر دیتے ہیں اور غریب و امیر، مرد و خواتین، بچے بوڑھے سب اس کی لپیٹ میں آجاتے ہیں جس کی اہم وجہ صبح و شام کے اوقات میں گرم لباس کا استعمال نہ کرنا ہے ،ان امراض کے اسباب کے بارے میں جدید طب کا نظریہ ہے کہ سب سے پہلے گلے کا خراب ہونا، کھانسی پھر نزلہ زکام سے مرض بڑھنے لگتا ہے ۔

بار بار چھینکیں اور کھانسی کے باعث یہ وائرس دوسروں میں بھی منتقل ہوجاتا ہے اور آہستہ آہستہ کھانسی نزلہ ذکام کا مرض پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے جس کی بڑی وجہ گرم لباس کا استعمال نہ کرنا ،ٹھنڈ سے نہ بچنا اورٹھنڈے مشروبات کا بے دریغ استعمال ہے ۔ کھانسی نزلہ زکام خاص طور پر بچوں، بزرگوں پر زیادہ اثرانداز ہوتا ہے ،جو طویل عرصے تک کھانسی کا شکار رہتے ہیں۔

ڈاکٹر زنے بچوں کے والدین خاص طور پر نوجوانوں سے گرم لباس کا استعمال کرنے اور شام و صبح کے اوقات میں سردی کی شدت سے بچنے کا مشورہ دیا ہے۔

Exit mobile version