جہلم میں ماڈرن ریڑھی بازار بھی شہر کے دکانداروں سے گراں فروشی میں سبقت لے گئے

جہلم شہر کے وسط شاندار چوک سے ملحقہ سبزی منڈی میں وزیر اعلی پنجاب کی ہدایت پر انتظامیہ کی جانب سے لگائے گئے ماڈرن ریڑھی بازار بھی شہر کے دکانداروں سے گراں فروشی میں سبقت لے گئے۔

انتظامیہ کی جانب سے مناسب چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کے سبب پھل سبزیاں سرکاری نرخ نامے پر یہاں پر بھی دستیاب نہیں۔ ماڈرن ریڑھی بازار میں ریٹ لسٹ پر عملدرآمد ہوتا بھی کہیں نظر نہیں آتا جس کی وجہ سے دیہاڑی دار متوسط طبقہ فاقہ کشیوں پر مجبور، ذمہ داران ستو پی کر سو گئے۔

شہریوں نے گراں فروشی کے حوالے سے سبقت لے جانے والے ماڈرن ریڑھی بازارکے دکانداروں پر شدید اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ شہر سمیت ضلع بھر میں چیک اینڈ بیلنس کا نظام مکمل مفلوج ہے انتظامیہ اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس نرخ ناموں پر عملدرآمد کروانے میں مکمل ناکام دکھائی دیتے ہیں۔

انتظامیہ کی جانب سے ماڈرن بازاروں کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ ان بازاروں میں سرکاری نرخ نامے سے 10/20 فیصد کم نرخوں پر پھل سبزیاں فروخت ہونگی جبکہ ریڑھی بازار کے دکانداروں نے نرخوں میں کمی کرنے کی بجائے 40/50فیصد اضافی نرخ وصول کرنے شروع کررکھے ہیں۔

جہلم شہر کے بازار کی طرح یہاں پر بھی پھلوں سبزیوں کے نرخوں کو آگ لگی ہوئی ہے، ریٹ لسٹ پر عملدرآمد کروانے والا انتظامیہ کاکوئی ذمہ دار موجودنہیں۔ سبزیاں کدو، بھنڈی، گوبھی، کھیرا، مٹر، سبز مرچ، ادرک،پھل انگور، کیلا، جاپانی پھل، سیب، سندر خانی انگور، انار کے نرخ مارکیٹ کمیٹی کے نرخ نامے سے کئی گنا زیادہ قیمت پر فروخت ہو رہے ہیں۔

خریدار دکانداروں سے ریٹ لسٹ بابت بات کریں تو جواب ملتا ہے کہ نرخنامے کے مطابق ہمیں منڈی سے خریداری کروا دیں ماڈرن ریڑھی بازار سب لفظوں کا گورکھ دھندہ ہے۔ ہم منڈی سے مہنگے پھل سبزیاں خرید کر کسی صورت سستی فروخت نہیں کرسکتے، انتظامیہ کو چاہیے گھروں میں بستروں پر آرام کرنے کی بجائے صبح سویرے منڈیوں میں پہنچیں اور اپنی موجودگی میں بولیاں کروائیں اور اس کے مطابق ہمیں نرخ دیے جائیں ہم معمولی منافع رکھ کر فروخت کریں گے۔

Exit mobile version