بلال اظہر کیانی کے نام کھلا خط لکھ کر مقامی صحافی نے دھرتی کا بیٹا ہونے کا قلمی فرض ادا کر دیا ہے، راجہ خورشید حیدر

سوہاوہ: ممبر قومی اسمبلی و وزیر مملکت بلال اظہر کیانی کے نام کھلا خط تحریر کر کے مقامی صحافی نے دھرتی کا بیٹا ہونے کا قلمی فرض ادا کر دیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار پڑی درویزہ کے سابق جنرل کونسلر راجہ خورشید حیدر نے اپنے ایک بے لاگ تبصرے میں کیا۔ سابق جنرل کونسلر راجہ خورشید حیدر نے معاصر “جہلم اپڈیٹس” کی زینت بننے والے ایم این اے و وزیر مملکت برائے ریلوے و وفاقی وزارت خزانہ پاکستان بلال اظہر کیانی کے نام شائع ہونے والے کھلے خط پر تبصرہ کرتے ہوئے اس خط کے کاتب مقامی صحافی و معروف کالم نگار پروفیسر افتخار محمود کی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔

انہوں نے کہا کہ پروفیسر افتخار محمود نے اس کھلے خط کے ذریعے پڑی درویزہ کی تاریخی اور جغرافیائی اہمیت کے ساتھ ساتھ علاقے کے دیرینہ مسائل کو نہ صرف اجاگر کیا بلکہ ایک ذمہ دار اور باخبر شہری ہونے کا ثبوت بھی دیا ہے۔

راجہ خورشید حیدر کا کہنا تھا کہ پروفیسر افتخار محمود گزشتہ 37 برس سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں اور مسلسل پڑی درویزہ و گردونواح کے مسائل کو اجاگر کرتے آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق مذکورہ کھلا خط دراصل علاقے کے عوام کی ترجمانی ہے اور ایسے قلمی کاوشیں عوامی مسائل کو ایوانوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پروفیسر افتخار محمود پڑی درویزہ اور علاقے کی بہترین قلمی نمائندگی کر رہے ہیں اور ان کی تحریریں آنے والی نسلوں کے لیے بھی رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔ راجہ خورشید حیدر نے یاد دلایا کہ وہ سال 2005ء سے 2009ء تک بلدیاتی نظام کے تحت پڑی درویزہ کے جنرل کونسلر رہ چکے ہیں۔

انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ محسنِ پڑی درویزہ اور علاقے کے ہیرو سابق سپرنٹنڈنٹ پولیس راجہ عنایت اللہ خان (ستارہ قائداعظم) کی تحریک پر دیہی ترقیاتی پروگرام کے تحت 1968-69ء میں تعمیر ہونے والی چکوال روڈ سے منسلک لنک روڈ پڑی درویزہ کی مرمت سابق تحصیل ناظم سوہاوہ راجہ آفتاب ظہور کے خصوصی تعاون سے 16 لاکھ روپے کی خطیر گرانٹ سے کروائی گئی تھی۔

راجہ خورشید حیدر نے مزید بتایا کہ حالیہ قومی انتخابات کے موقع پر یونین کونسل پھلڑے سیداں اور علاقہ پڑی درویزہ میں ایم این اے بلال اظہر کیانی کے اعزاز میں پہلا استقبالیہ دینے اور انہیں علاقے میں متعارف کرانے کا اعزاز بھی انہیں حاصل ہے۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ منتخب نمائندے مقامی صحافیوں کی نشاندہی کردہ عوامی مسائل کو سنجیدگی سے لیں گے اور علاقے کی پسماندگی کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کریں گے۔

Exit mobile version