صادق خان کو دائیں بازو کیساتھ اسلامی انتہاء پسندوں کی دھمکیوں کا بھی سامنا

مانچسٹر: لندن کے میئر مسلم رہنما صادق خان کے قریبی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں دائیں بازو کی دھمکیوں کا سامنا کرنے کے ساتھ اسلام پسند انتہا پسندوں کی طرف سے بھی دھمکیاں دی جا رہی ہیں ۔

صادق خان کو سال 2017 سے ابتک سکیورٹی دی جا رہی ہے۔ انہیں دھمکیاں ملنے کے بعد چوبیس گھنٹے پولیس حفا ظت کی ضرورت اہم قرار دی جا رہی ہے۔ لندن میئر کو 2017 سے پولیس کا خصوصی تحفظ مل رہا ہے جو عام طور پر شاہی خاندان کے ارکان اور کابینہ کے چند سینئر وزرا کے لیے مخصوص ہوتا ہے۔

لیبر سیاستدان کو مانچسٹر میں دو جہادی حملوں کے مذمتی بیان کے بعد اسلام پسند دہشت گردوں کی طرف سے خدشات کا سامنا ہے۔ انہیں 15 افراد کی ٹیم حفاظتی اقدامات کیلئے دی گئی ہے ۔مغربی جمہوریتوں میں عوامی عہدے پر فائز مسلمانوں کو اسلام پسند انتہا پسندوں کے ہدف کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔صادق خان نے ہم جنس شادی کے حق میں بھی ووٹ دیا اور وہ طویل عرصہ تک ایل جی بی ٹی کیو حقوق کے طویل چیمپئن رہے۔

صادق خان کے قریبی عزیزوں نے برطانوی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ انہیں خطرات کا سامنا ہے۔ اسکی حفاظت کی فکر ہمیشہ خاندان کو رہی ہے۔ گزشتہ کئی روز سے اس بیان کے بعد صادق خان کو جان سے ماردیے جانیکی دھمکیا ںموصول ہو رہی ہیں جس میں مسٹر اینڈرسن نے کہا تھا کہ میئر کو اسلام پسندوں کا کنٹرول ہے اور اس نے ہمارا سرمایہ اپنے ساتھیوں کو دیدیا ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق ایپسوچ کے رہائشی کرسٹوفر میسی نے سفولک پولیس کے کنٹرول روم کو دو 999 کالوں میں میئر کو دھمکیاں دیں ۔

کراؤن پراسیکیوشن سروس نے کہا کہ میسی نے نئے آن لائن سیفٹی ایکٹ کے تحت موت یا سنگین نقصان کی دھمکی دینے والی مواصلت بھیجنے کی دو گنتی میں جرم قبول کیا۔ اب اسے قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ مسٹر اینڈرسن نے کہا تھا کہ میں حقیقت میں یہ نہیں مانتا کہ ان اسلام پسندوں نے ہمارے ملک کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے، لیکن میں جو مانتا ہوں وہ یہ ہے کہ ان کے پاس خان کا کنٹرول ہے اور ان کا لندن پر اور اسٹارمر کا بھی کنٹرول ہے۔

ٹی وی انٹرویو میں ایشفیلڈ کے ایم پی نے کہا کہ یہ انتہائی ناگوار ہے کہ لوگ ان پر الزام لگا رہے ہیں کہ انہوں نے گزشتہ جمعہ کو مسٹر خان پر لیبر سیاستدان کے عقیدے کی وجہ سے حملہ کیا۔

مسٹر اینڈرسن نے مشورہ دیا کہ جب انہوں نے مسٹر خان پر اصل تنقید کی تو انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ وہ کس مذہب کے ہیں۔ میں صرف یہ سمجھتا ہوں کہ وہ ایک بیکار میئر ہیں۔ مجھے اس پر افسوس نہیں۔ میں اپنے تبصروں اور جذبات پر قائم ہوں۔

Exit mobile version