جہلم: پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی جانب سے انسدادِ اتائیت کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی موثریت پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں مبینہ طور پر غیر مستند طبی پریکٹس اور کلینکس کی موجودگی کے حوالے سے شہریوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ضلع جہلم کے مختلف علاقوں میں ایسے کلینکس کی موجودگی کے حوالے سے شکایات سامنے آتی رہتی ہیں جہاں مبینہ طور پر مستند طبی قابلیت اور قانونی اجازت کے بغیر مریضوں کا علاج کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کے مطابق اگر ان شکایات کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ صورتِ حال عوامی صحت کے لیے سنگین خطرے کا باعث بن سکتی ہے، کیونکہ غیر مستند افراد کی جانب سے علاج معالجے کی فراہمی مریضوں کی صحت اور زندگی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
شہریوں نے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں قائم تمام متعلقہ طبی مراکز کی جامع جانچ پڑتال کی جائے۔ کلینکس میں مریضوں کا علاج کرنے والے افراد کی پیشہ ورانہ اسناد، طبی قابلیت اور اداروں کے قانونی اجازت ناموں کی مکمل تصدیق کی جائے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا متعلقہ مراکز مقررہ قانونی ضوابط کے مطابق کام کر رہے ہیں یا نہیں۔
عوامی حلقوں نے مزید مطالبہ کیا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی ثابت ہونے کی صورت میں ذمہ دار افراد کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور انسدادِ اتائیت مہم کو محض رسمی کارروائی تک محدود رکھنے کے بجائے مؤثر اور نتیجہ خیز بنایا جائے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ انسدادِ اتائیت مہم کی کامیابی کے لیے باقاعدہ نگرانی، موصول ہونے والی شکایات پر فوری کارروائی اور عوامی آگاہی انتہائی ضروری ہے۔ عوام کو بھی اس حوالے سے آگاہ کیا جانا چاہیے کہ علاج معالجے کے لیے مستند اور قانونی طور پر مجاز طبی مراکز اور اہل معالجین سے رجوع کریں تاکہ غیر مستند طبی پریکٹس کے ممکنہ نقصانات سے محفوظ رہا جا سکے۔
شہریوں نے اربابِ اختیار سے اپیل کی ہے کہ اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے ضلع بھر میں طبی مراکز کی نگرانی کا مؤثر نظام بنایا جائے، انسدادِ اتائیت کے اقدامات کو مزید فعال کیا جائے اور عوام کو محفوظ، معیاری اور قابلِ اعتماد طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
