منگلا روڈ پر والد کی جائیداد پر مخالفین نے مبینہ قبضہ کر لیا، انصاف فراہم کیا جائے۔ اسرار علی

دینہ کے علاقہ جلوچک کے رہائشی اسرار ولد علی اصغر نے میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ منگلا روڈ پر واقع 16 مرلہ پلاٹ، جو ان کے بقول ان کے والد مرحوم علی اصغر کی ملکیتی جائیداد ہے، پر مبینہ طور پر مخالفین نے قبضہ کر لیا ہے۔ متاثرہ شہری نے اعلیٰ حکام سے معاملے کی غیر جانب دارانہ انکوائری کروا کر حقائق سامنے لانے اور قانون کے مطابق کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اسرار کے مطابق مذکورہ 16 مرلہ پلاٹ منگلا روڈ پر مسلم کمرشل بینک کے بالمقابل سڑک کے کنارے واقع ہے اور اس جائیداد کے حوالے سے گزشتہ تقریباً 30 سے 35 سال سے مختلف عدالتوں میں مقدمات زیرِ سماعت رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ سول کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے آنے والے فیصلے بھی ان کے حق میں ہوئے ہیں۔

اسرار نے بتایا کہ ان کے والد کی وفات کے موقع پر عدالتِ عالیہ کی جانب سے تحریری حکم بھی جاری کیا گیا تھا، جس کے تحت بیلف کی فیس جمع کروانے کے بعد بیلف کی موجودگی میں مذکورہ پلاٹ کا قبضہ انہیں دلوانا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ کم تعلیمی قابلیت اور معاملے کی مکمل سمجھ نہ ہونے کے باعث وہ مقررہ وقت پر بیلف فیس جمع نہ کروا سکے۔

متاثرہ شہری نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ ماہ 24 ستمبر کی رات مخالفین، جن میں عدنان، ارشد جمیل وغیرہ شامل ہیں، نے مبینہ طور پر دیگر افراد کے ہمراہ مذکورہ پلاٹ پر قبضہ کر لیا۔ اسرار کے مطابق واقعے کی اطلاع ملنے پر انہوں نے تھانہ منگلا سے رجوع کیا اور پولیس سے کارروائی کی درخواست کی، تاہم ان کے بقول تاحال انہیں کوئی مؤثر پیش رفت نظر نہیں آئی۔

اسرار کا کہنا ہے کہ معاملے میں مبینہ قبضے کے باعث وہ حصولِ انصاف کے لیے مختلف حکام سے رجوع کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب، کمشنر راولپنڈی، ڈپٹی کمشنر جہلم اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جہلم سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی غیر جانب دارانہ انکوائری کروا کر اصل حقائق سامنے لائے جائیں اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

دوسری جانب پولیس کا مؤقف جاننے کے لیے تھانہ منگلا کے تفتیشی افسر سب انسپکٹر چوہدری ضمیر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ مذکورہ جگہ متنازعہ ہے اور پولیس نے معاملے کی وضاحت کے لیے محکمہ مال سے رجوع کر رکھا ہے۔

تفتیشی افسر کے مطابق محکمہ مال کی جانب سے جس فریق کے حق میں فیصلہ کیا جائے گا، قانون کے مطابق اسی کے حق کو تسلیم کیا جائے گا، جبکہ مخالف فریق کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

↑
Exit mobile version