جہلم کے صرافہ بازار میں سونے اور چاندی کے کاروبار سے منسلک تاجروں کی رجسٹریشن اور ہر جیولرز کی دکان پر سونے کے تازہ نرخ نمایاں کرنے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے۔ صرافہ بازار میں روزانہ لاکھوں روپے کا لین دین ہوتا ہے، جبکہ جہلم شہر ضلع بھر میں سونے اور چاندی کے زیورات کی خرید و فروخت کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔
شہری حلقوں کے مطابق جہلم صرافہ بازار میں بیشتر جیولرز کی دکانوں پر اوپن ایل ای ڈی اسکرینوں کے ذریعے سونے کے روزانہ نرخ آویزاں نہیں کیے جاتے، جس کے باعث دکاندار اکثر گاہکوں کو زبانی طور پر نرخ بتاتے ہیں۔ اس صورتحال میں خصوصاً ضلع کے مضافاتی اور دیہی علاقوں سے آنے والے سادہ لوح خریداروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ بعض اوقات خریداروں کو سونے اور چاندی کے من پسند نرخ بتائے جاتے ہیں، جس سے خرید و فروخت کے عمل میں شفافیت متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
شہریوں کے مطابق صرافہ بازار میں کروڑوں روپے کا کاروبار ہونے کے باوجود متعدد دکانداروں کی رجسٹریشن کے حوالے سے بھی سوالات موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سونے اور چاندی کے کاروبار کو شفاف بنانے اور خریداروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے تمام جیولرز کی باقاعدہ رجسٹریشن یقینی بنائی جانی چاہیے۔
عوامی حلقوں نے متعلقہ حکام اور صرافہ بازار کی تاجر تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ سونے اور چاندی کا کاروبار کرنے والے تمام تاجروں کی رجسٹریشن کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور ہر دکان پر ایل ای ڈی اسکرین نصب کرکے سونے کے روزانہ نرخ نمایاں طور پر آویزاں کیے جائیں، تاکہ خریداروں کو خرید و فروخت کے وقت مارکیٹ کے مقررہ اور مستند نرخوں سے آگاہی حاصل ہو اور کاروباری معاملات میں شفافیت برقرار رکھی جا سکے۔
