جہلم: یوم تحفظ جنگلات کے موقع پر محکمہ انہار جہلم کے ذمہ داران نے شہر کو محفوظ بنانے کے لئے تعمیر ہونے والی گرین بیلٹ سے سرسبز و شاداب درخت کٹوانے شروع کردیئے۔ محکمہ انہار کے افسران کی سرپرستی میں دریا کنارے لگائے گئے درختوں کی محکمہ کے ذمہ داران کی سرپرستی میں کٹائی جاری ہے۔
تفصیلات کے مطابق محکمہ انہار جہلم کے ذمہ داران کی سرپرستی میں جہلم شہر کو محفوظ بنانے کی غرض سے تعمیر کئے جانے والے حفاظتی بند کے کناروں پر لگائے گئے درختوں کی کٹائی کا عمل شروع کردیا گیا ہے ، جس کیوجہ سے بند کو نقصان پہنچنے کا بھی اندیشہ لاحق ہوچکا ہے۔
شہری تنظیموں کے عمائدین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ شہری تنظیموں کے رضا کاران نے اپنی مددآپ کے تحت گرین بیلٹ کے دونوں اطراف پھولدار، پھلدار، سایہ دار پودے لگائے تاکہ حفاظتی بند کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
21 مارچ کو دنیا بھر میں جنگلات کے تحفظ کا دن منایا گیا جبکہ محکمہ انہار جہلم کے افسران کی سرپرستی میں ملازمین دریا کنارے لگائے گئے درختوں کی نگہداشت کرنے کی بجائے قیمتی درختوں کو کاٹ کر لوڈر رکشوں میں ڈال کر نامعلوم مقام پر منتقل کرتے رہے ، درختوں کی تعداد میں کمی سے پرندوں اور تتلیوں کی تعداد میں بھی کمی واقع ہو رہی ہے ،جو ماحول کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔
شہری تنظیموں کے عمائدین کا کہنا ہے کہ میواکی طریقے سے پھل دار ، پھولدار ، سایہ دار پودے لگانے کو ترجیح دی جارہی ہے ۔ جبکہ محکمہ انہارکے افسران درختوں کی حفاظت کرنے کی بجائے درختوں کی کٹائی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں جس سے سبزے کے ختم ہونے کے ساتھ ساتھ حفاظتی بند کو بھی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
شہری تنظیموں کے عمائدین نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف ، چیف سیکرٹری پنجاب، سیکرٹری انہار اور ایڈوائزر صوبائی محتسب پنجاب جہلم سے نوٹس لینے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائیاں کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔
