جہلم میں سوئی گیس اور بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے شہری و تاجر پریشان

جہلم میں سوئی گیس اور بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے شہریوں اور تاجروں کو پریشان کر دیا۔

جہلم شہر کی سماجی تنظیموں کے عمائدین نے سوئی گیس اور بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی اور گیس کی مسلسل بندش نے صارفین، تاجروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔

سماجی حلقوں کے مطابق ایک جانب سوئی گیس کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے باعث گھریلو صارفین خصوصاً خواتین کو امورِ خانہ داری انجام دینے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ دوسری جانب بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ بندش نے تاجروں سمیت دیگر کاروباری طبقوں کی مشکلات میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے باعث کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ سکول جانے والے بچے، ملازمت پیشہ افراد، محنت کش طبقہ اور گھریلو صارفین بھی اس صورتحال سے شدید پریشان ہیں۔ بجلی اور گیس کی بار بار بندش کے باعث شہریوں کے معمولاتِ زندگی متاثر ہو کر رہ گئے ہیں۔

سماجی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ صارفین سے ہر ماہ ہزاروں روپے کے یوٹیلیٹی بلز وصول کیے جاتے ہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں بجلی اور گیس جیسی بنیادی سہولیات کی بلاتعطل فراہمی میسر نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھاری بھرکم بلوں کی ادائیگی کے باوجود شہری بنیادی سہولیات کے لیے پریشان ہیں۔

انہوں نے چیف ایگزیکٹو آفیسر اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو)، جنرل منیجر سوئی گیس اور وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کیا کہ جہلم میں بجلی اور سوئی گیس کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا فوری نوٹس لیا جائے اور متعلقہ اداروں کو بجلی و گیس کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔

سماجی حلقوں نے کہا کہ بجلی اور گیس کی مسلسل بندش سے عوام پہلے ہی شدید مشکلات کا شکار ہیں، اس لیے حکومت فوری اقدامات کرتے ہوئے شہریوں کو حقیقی معنوں میں ریلیف فراہم کرے۔

Exit mobile version