جہلم میں نکاسی آب کے نالوں پر پختہ تعمیرات اور تجاوزات نے واسا اور میونسپل کمیٹی کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا۔ شہر اور گردونواح میں وقفے وقفے سے ہونے والی موسلادھار بارش نے جل تھل ایک کردیا، نشیبی علاقے بارشی پانی میں ڈوب گئے جبکہ گلیوں اور سڑکوں پر پانی کھڑا ہونے سے نظامِ زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا۔
سول لائن روڈ، بازار، نیا بازار، چوک گنبد والی مسجد، اہلحدیث چوک سمیت تجارتی مراکز میں بارشی پانی جمع ہونے کے باعث شہری گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے اور دکانداروں کو شدید مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ بارش کے باعث ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہوئی، سول لائن روڈ، تحصیل روڈ اور ریلوے روڈ پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں جبکہ پیدل چلنے والے شہریوں کو کمر تک پانی میں سے گزرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ واسا اور میونسپل کمیٹی کے دعوے کھوکھلے ثابت ہوئے ہیں۔ نکاسی آب کے نالوں پر تعمیرات اور تجاوزات نے پانی کے بہاؤ کو روک رکھا ہے جس کے باعث معمولی بارش بھی عذاب بن جاتی ہے۔ ناقص منصوبہ بندی اور انتظامیہ کی غفلت نے واسا کی کارکردگی کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔
بارش کے پانی کے گھروں اور دکانوں میں داخل ہونے سے قیمتی سامان خراب ہوگیا، بچوں اور بزرگوں کو گھروں سے نکلنے میں شدید مشکلات کا سامنا رہا۔
شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، چیف سیکرٹری پنجاب، سیکرٹری بلدیات اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ نکاسی آب کے نظام کو فی الفور بہتر بنایا جائے، نالوں پر قائم تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے اور بارش کے دوران ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں تاکہ آئندہ شہریوں کو ایسی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
