جہلم: خواتین قیدیوں کی فلاح و بہبود، عزتِ نفس کے تحفظ اور اصلاح و بحالی کے عمل میں معاونت فراہم کرنے کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سوشل سروسز ماہم مشتاق نے ڈسٹرکٹ جیل جہلم کا دورہ کیا۔
اس موقع پر سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ جیل سرور اور معروف سماجی شخصیت ایڈووکیٹ فرحت کمال ضیاء بھی ان کے ہمراہ تھے۔ دورے کے دوران خواتین قیدیوں کی ضروریات، فلاحی معاونت اور ان کی بہتری کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر توجہ دی گئی۔
اس موقع پر خواتین قیدیوں میں جائے نماز، تسبیح کاؤنٹرز اور ملبوسات تقسیم کیے گئے۔ اس اقدام کا مقصد خواتین قیدیوں کی بنیادی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں سہولیات فراہم کرنا، ان کی حوصلہ افزائی کرنا اور اصلاح و بحالی کے عمل میں معاونت کرنا تھا۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سوشل سروسز ماہم مشتاق نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قیدیوں کی بنیادی ضروریات کا خیال رکھنا، ان کے انسانی وقار اور عزتِ نفس کا احترام کرنا اور مثبت اصلاحی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرنا ایک اہم سماجی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحی اداروں میں موجود خواتین قیدیوں کی ضروریات کو سمجھنا اور انہیں مناسب سہولیات فراہم کرنا ان کی ذہنی و سماجی بہبود کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔
ماہم مشتاق نے خواتین قیدیوں کی ذہنی و سماجی بہتری اور رہائی کے بعد معاشرے میں باوقار واپسی کے لیے فلاحی اقدامات کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قیدیوں کی فلاح و بہبود کے لیے کیے جانے والے اقدامات ان کی حوصلہ افزائی اور مثبت طرزِ زندگی اختیار کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے خواتین قیدیوں کی معاونت کے لیے سماجی شخصیات اور مخیر حضرات کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ اصلاحی اداروں میں فلاحی سرگرمیوں کا تسلسل برقرار رکھنا ضروری ہے تاکہ قیدیوں کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی اصلاح و بحالی کے عمل کو بھی تقویت مل سکے۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سوشل سروسز نے اس امر پر زور دیا کہ سرکاری اداروں اور فلاحی شخصیات کے باہمی تعاون سے خواتین قیدیوں کی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کیا جا سکتا ہے۔ ایسے اقدامات نہ صرف ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں بلکہ انہیں معاشرے میں مثبت اور باوقار زندگی کی طرف واپس لانے کی کوششوں میں بھی مدد فراہم کرتے ہیں۔
ڈسٹرکٹ جیل جہلم میں خواتین قیدیوں کے لیے کیے جانے والے اس فلاحی اقدام کو انسانی ہمدردی، سماجی ذمہ داری اور اصلاح و بحالی کے عمل میں معاونت کی ایک کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
