جہلم میں سرکاری نرخنامے غائب، گراں فروشی عروج پر، شہری مہنگے داموں اشیائے ضروریہ خریدنے پر مجبور

جہلم شہر سمیت گردونواح میں سرکاری نرخناموں پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث گراں فروشی میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ گوشت، سبزیاں، پھل، دودھ، دہی، روٹی اور دیگر اشیائے خوردونوش من مانے نرخوں پر فروخت کی جا رہی ہیں، جس سے شہری شدید پریشانی کا شکار ہیں۔

حاجی شاہین، نصیر احمد، ندیم گجر، سہیل اصغر، اعجاز، عبداللہ فراز اور دیگر شہریوں نے میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ شہر میں روزمرہ استعمال کی اشیائے ضروریہ سرکاری نرخوں پر دستیاب نہیں، جبکہ بیشتر دکاندار اپنی دکانوں پر سرکاری نرخنامے نمایاں جگہ پر آویزاں بھی نہیں کرتے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ گوشت، دودھ، دہی، پھل، سبزیاں، روٹی اور کریانہ کی متعدد اشیاء سرکاری قیمتوں کے برعکس من مانے نرخوں پر فروخت کی جا رہی ہیں، جس کے باعث عام آدمی کا گھریلو بجٹ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس مارکیٹوں میں مؤثر نگرانی کرنے کے بجائے دفاتر میں بیٹھ کر کارروائیوں کی رپورٹس ارسال کر دیتے ہیں، جبکہ عملی طور پر گراں فروشی کے خلاف مؤثر اقدامات نظر نہیں آتے، جس کا فائدہ ناجائز منافع خور اٹھا رہے ہیں۔

شہریوں نے کہا کہ مہنگائی کے موجودہ دور میں انتظامیہ کی غفلت کے باعث عوام دوہری مشکلات کا شکار ہیں اور دکاندار بلاخوف و خطر سرکاری نرخوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

متاثرہ شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، کمشنر راولپنڈی، ڈپٹی کمشنر جہلم اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر بھر میں سرکاری نرخناموں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے، گراں فروشی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور پرائس کنٹرول نظام کو مؤثر بنا کر عوام کو مہنگائی سے حقیقی ریلیف فراہم کیا جائے۔

Exit mobile version