جہلم کے مضافاتی علاقوں میں گندم کی کٹائی کے دوران فضائی آلودگی میں نمایاں اضافہ ہونے لگا ہے، جس کے باعث شہریوں کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہے، جبکہ بزرگ، بچے اور دمہ کے مریض سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جہلم اور مضافاتی علاقوں میں جہاں جہاں کسانوں نے تھریشر لگا رکھے ہیں وہاں فضا میں گردوغبار اور دھوئیں کی تہہ چھا گئی ہے، جس سے ماحول بری طرح آلودہ ہو چکا ہے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ گندم کی کٹائی کے بعد فصلوں کی باقیات کو آگ لگانے اور انہیں توڑی میں تبدیل کرنے کے عمل سے فضا میں دھواں، مٹی اور نقصان دہ ذرات کی مقدار میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
شہریوں کے مطابق اس صورتحال کے باعث سانس اور پھیپھڑوں کی بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے۔ خصوصاً دمہ کے مریضوں اور بچوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فصلوں کی باقیات جلانے سے کاربن کے مضر اجزاء فضا میں شامل ہو جاتے ہیں، جو انسانی صحت اور ماحول دونوں کے لیے خطرناک ہیں۔ اس عمل سے نہ صرف فضائی آلودگی بڑھتی ہے بلکہ سانس کی بیماریوں میں بھی شدت آ جاتی ہے۔
اہلِ علاقہ نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لیا جائے اور کسانوں کو فصلوں کی باقیات تلف کرنے کے متبادل اور ماحول دوست طریقے فراہم کیے جائیں۔
مکینوں نے مزید زور دیا کہ کھیتوں کو آگ لگانے کے عمل کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں تاکہ علاقے میں بڑھتی ہوئی آلودگی پر قابو پایا جا سکے اور شہریوں کو صاف ماحول فراہم کیا جا سکے۔
