جہلم سے بچوں کو اغواء کرکے زیادتی اور جبری مشقت کروانے والا گینگ گرفتار، بچے بازیاب

جہلم: بچوں کو اغوا کر کے جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والا گینگ پکڑا گیا، جہلم پولیس نے ایک بچے اور دو بچیوں کو بازیاب کرا لیا۔

تفصیلات کے مطابق جہلم پولیس نے بچوں کے اغوا اور زیادتی میں ملوث گروہ کو گرفتار کر لیا ،گروہ میں ایک خاتون اور تین مرد شامل ہیں، تھانہ صدر پولیس جہلم نے 21 دن بعدگینگ کو گرفتار کر کے بچوں کو بازیاب کرا لیا۔

اغواکار گینگ کے ملزمان کی شناخت ارشد علی، واجد علی، اسد اور رضیہ بی بی کے ناموں سے ہوئی ہے۔


ملزمان نے جہلم کے تھانہ صدر کے علاقہ بگا سے ایک بچے اللہ وسایا سمیت 2 بچیوں جمیلہ بی بی اور غلام فاطمہ کو اغوا کیا، ملزمان تینوں بچوں کو اغوا کر کے پہلے چکوال، وہاں سے تلہ گنگ، پھر میانوالی اور بعد میں موسی خیل لیکر چلے گئے۔

ملزمان نے تینوں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی اور جبری مشقت کرواتے رہے، اغوا کار ملزمان نوکری کا جھانسہ دیکر تینوں بچوں کو مختلف شہروں میں گھماتے رہے۔

تھانہ صدر پولیس نے والدہ کی درخواست پر مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کیا اور جدید ٹیکنالوجی اور ہیومن انٹیلی جنس کی مدد سے ٹریسنگ کا آغاز کیا، صدر پولیس نے 21 دن میں ملزمان کو ٹریس کر کے گرفتار کر لیا اور مغویان کو بازیاب کروا لیا۔


پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان سابقہ ریکارڈ یافتہ ہیں جن پر ضلع شیخوپورہ تھانہ صدر میں سال 2020 میں اغوا اور جنسی زیاتی کا مقدمہ درج ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان اور تینوں بچوں کے میڈیکل ٹیسٹ کروائے گئے ہیں۔ مقدمہ کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کرنے کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ بھی کروائے جائیں گے، ملزمان برریمانڈ جسمانی ہیں جن سے مزید تفتیش جاری ہے۔

اس حوالے سےڈی پی او جہلم ناصر محمود باجوہ کا کہنا ہے کہ بچوں کے ساتھ زیادتی اور اغوا جیسے واقعات پر زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ ڈی پی او جہلم ناصر محمود باجوہ نے ایس ایچ او صدر اور ٹیم کو شاباش اور تعریفی سرٹیفکیٹ دینے کا اعلان کیا۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button