جہلم میں بچوں سے مشقت لینے کا خاتمہ ممکن نہ ہو سکا

جہلم: شہر اورگرد نواح میں بچوں سے مشقت لینے کا خاتمہ ممکن نہ ہو سکا، محکمہ لیبر کے ضلعی ذمہ داران کی نالائقی سے کمسن بچے تعلیم حاصل کرنے کی بجائے محنت مزدوری کرنے میں مصروف ہیں۔

تفصیلات کے مطابق جہلم شہر اور گردونواح کے علاقوں میں قائم بیکر یوں، فاسٹ فوڈ کی شاپس ، پینگچرز شاپس، موٹر مکینکس، ہوٹلوں، ریسٹورنٹس،کریانہ و جنرل سٹورز، میرج ہالز ، مارکیز،میرج گارڈنز سمیت منی کارخانوں اور انڈسٹریز میں کمسن بچے محنت مزدوری کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

کمسن بچوں سے محنت مزدوری کے واقعات میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے اور با اثر مالکان کا کمسن بچوں پر بہیمانہ تشدد کے واقعات بھی روز کا معمول بن چکے ہیں ۔

اس سلسلے میں گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر مختلف کارخانوں اور موٹر مکینکس شاپس کے مالکان کی جانب سے کمسن بچوں پر تشدد اور گالی گلوچ کی ویڈیوز بھی وائرل ہوئیں ،ویڈیو دیکھنے کے بعد شہریوں میں شدید غم وغصہ اور خوف و ہراس پایا جاتا ہے تاہم محکمہ لیبر کے متعلقہ ذمہ داران کی مسلسل چشم پوشی اور ہٹ دھرمی سے کمسن بچوں سے ملازمت کا رجمان مسلسل بڑھ رہا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ ایڈوائزر صوبائی محتسب پنجاب ضلع بھر میں نافذ جنگل کے قانون کے خاتمے کے لئے نوٹس لیں اور متعلقہ محکمہ کو چائلڈ لیبر کے حوالے سے سخت احکامات جاری کریں تاکہ کمسن بچوں کو دکانوں پر بھجوانے کی بجائے سکولوں میں داخل کروایا جا سکے ۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button