فواد چوہدری کاقصور، عمران خان سے وفا

سابق وفاقی وزیر چوہدری فواد حسین پانچ ماہ سے پابند سلاسل ہیں، وہ 2018کے عام انتخابات میں جہلم کے حلقہ این اے 67سے پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر ایم این اے منتخب ہوئے۔
یہ وہ حلقہ ہے جو گزشتہ کئی سالوں سے پسماندگی کی علامت بنا ہوا تھا،سڑکیں کھنڈر اور زمینیں بنجر ،پانی کی قلت ،لوگوں کو پاسپورٹ بنوانے کے حصول کے لیے کئی کلومیٹر کی مسافت اور اضافی اخراجات کرکے ضلعی ہیڈ کوارٹرز جانا پڑتا تھا،اسکولوں اور بنیادی مراکز صحت کی حالات ابترتھی ،علاقہ بائی دیس،سنگھوئی ،چوٹالہ ،دارا پور کی عوام کے لیے کوئی تفریح پارک نہیں تھا۔
فواد چوہدری نے ایم این اے منتخب ہونے کے بعد انہیں وزیر اعظم عمران خان نے وزیر اطلاعات و نشریات کا قلمدان سونپا، وزارت سنبھالتے ہی انہوں نے اشتہارات کی مد میں ہونے والی کرپشن کا راستہ روکا، سرکاری ٹی وی کو بی بی سی طرز پر لانے کی کوشش شروع کی۔ ریڈیو پاکستان سے اضافی اور سفارشی بنیادوں پر بھرتی کیے گئے ملازمین جو مفت کی تنخواہیں وصول کررہے تھے اور سرکاری خزانے کو نقصان پہنچا رہے تھے انکو فارغ کرنے کی کوشش کی۔
اپنی جماعت اور حکومت کی مضبوط اور توانا آواز بنے ،سیاسی مخالفین کو میڈیا پر منہ توڑ جواب دیا،اسمبلی کے اندر اور باہر ہرجگہ پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا، پاک فوج کے شہداء کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا، شہداء کے ذکر پر اسمبلی فلور پے انکی آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑے، وزارت کے ساتھ ساتھ انہوں نے حلقے کی طرف بھی بھر پور توجہ دی، انکے بھائی فیصل فرید ایڈووکیٹ اور فراز چوہدری حلقے کی عوام کے ساتھ مکمل رابطے میں رہے۔
فواد چوہدری کےدفتر کے دروازے حلقے کی عوام کے لیے کھلے رہے،فواد چوہدری نے پٹوار اور تھانے کچہری کی سیاست کی بجائے عوامی خدمت کی سیاست کی، وزیر اعظم عمران خان سے حلقے کے مسائل پر بات کی، جلالپور شریف تا کندووال کا اٹھارہ سو بانوے کا منصوبہ منظور کروایا ، اس منصوبے کا افتتاح وزیر اعظم عمران خان نے پنڈدادنخان کے جلسے میں کیا، یہ وہ منصوبہ ہے اگر پایہ تکمیل تک پہنچ گیا تو نہ صرف اس پسماندہ علاقے کی بنجر زمینیں آباد ہوں گی بلکہ پانی کی قلت کا بھی خاتمہ ممکن ہوگا۔ یہ منصوبہ شروع ہوتے ہی بنجر زمینوں کے دام آسمان سے باتیں کرنے لگے، کسان خوشی سے نہال ہو گئے۔
فواد چوہدری اپنے کام اور لگن کے باعث عمران خان کے قریب ہوتے گئے لیکن پارٹی کے اندر اور باہر کچھ لوگ ان سے حسد کرنے لگے یہاں تک کہ انکے کچھ قریبی عزیز اور دوست بھی انکی مقبولیت سے خائف دکھائی دینے لگے، وزیر اعظم عمران خان کے کان بھرے جانے لگے، پارٹی کے اندر اور کابینہ میں ہوتے ہوئے بھی فواد چوہدری میں اتنی اخلاقی جرآت تھی کہ انہوں نے غلط کو غلط کہا پارٹی اور حکومت کی کچھ پالیسیوؤں اور فیصلوں سے اختلاف بھی کیا اور ٹاک شوز میں اسکا اظہار بھی کیا۔
فواد چوہدری کو وزارت اطلاعات سے ہٹا کر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی جیسی ایسی وزرات دی گئی جس کا ان سے پہلے بہت کم لوگوں نے نام سنا تھا شاید انکو کھڈے لائن لگانے کی کوشش کی گئی لیکن فواد چوہدری تخلیقی دماغ رکھتے ہیں جس طرح انہوں نے وزرات اطلاعات میں نئے جملے متعارف کروائے اسی طرح سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی وزارت سنبھالتے ہی اسکوچار چاند لگا دئیے۔ انہوں نے پہلے کام ہی عید کا چاند دیکھنے سے شروع ہوا اور ایسا چن چڑھایا کہ بے چارے مفتی منیب کی رویت ہلال کمیٹی چیئرمینی سے چھٹی کروا دی۔
اس دوران کورونا جیسے وائرس نے پاکستان سمیت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا تو ماسک، ہینڈ سینیٹائزر، کٹس، وینٹیلیٹرز کی شدید قلت پیدا ہو گئی۔ فواد چوہدری نے بطور وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اس دوروان اپنے فرائض احسن طریقے سے ادا کیے۔ وسیع پیمانے پے کٹس،ماسک،ہینڈ سینیٹائزر اور وینیٹیلیٹرز تیار کیے گئے، یہاں تک کہ پاکستان میں ضرورت پوری ہونے پر دیگر ممالک میں بھی سامان بھیجا گیا،چین کے تعاون سے جڑی بوٹیوں اور ہربل تھیم پارک جیسے منصوبوں پر کام شروع ہوا،الیکشن میں الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم پر بھی کام شروع کیا۔
اپنی ذہانت اور تخلیقی زہن سے فواد چوہدری نے ایسے ایسے منصوبے شروع کیے کہ اس وزارت کا نام بھی عالمی سطح پر بولنے لگا نہ صرف وزیر اعظم عمران خان نے فواد چوہدری کی ایک تقریب میں تعریف کی بلکہ اپوزیشن راہنماء خواجہ آصف ،رانا تنویر جیسی شخصیات بھی اسمبلی فور پے تعریف کرنے پر مجبور ہوگئیں۔
اس وزارت میں فواد چوہدری نے مقبولیت کے جھنڈے گاڑھے ہی تھے کہ ایک دفعہ پھر انہیں وزرات اطلاعات و نشریات کی ذمہ داری سونپ دی گئی جس سے وہ ناخوش تھے اور اسی وجہ سے شبلی فراز جیسے قریبی دوست بھی ان سے ناراض ہوئے لیکن کپتان کا فیصلہ تھا جسے سب نے قبول کرنا تھا۔
فواد چوہدری نے اس بار پی ٹی وی سپورٹس کی طرف بھی توجہ دی اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کیا اسکے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کی طرف بھی توجہ دی اور باقاعدہ مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے اور حکومتی اقدامات کے لیے مہم شروع کی گئی ، اس دوران اپنے حلقے کی پسماندگی پر بھی انکی توجہ مرکوز رہی علاقہ بائی دیس،سنگھوئی ،چوٹالہ اور پنڈدادنخان کے متعدد علاقوں میں کم وولٹیج کا مسئلہ حل کروایا بجلی کے سینکڑوں نئے پول لگائے گئے۔
عمران خان کے ویژن کے مطابق ماحولیاتی آلودگی کے خاتمہ کے لیے ضلع بھر میں شجر کاری مہم شروع کروائی، محکمہ جنگلات کے ڈویژنل فاریسٹ آفیسر سدھیر احمد مغل کی نگرانی میں بجوالہ، قلعہ روہتاس، کھیوڑہ سمیت متعدد علاقوں اور تعلیمی اداروں میں ہربشر دو شجر، پلانٹ فار پاکستان جیسے منصوبوں کے تحت بڑے ایونٹس کا انعقاد کیا گیا، اس مہم میں طلبہ طالبات، سیاسی و سماجی کاروباری شخصیات کو شامل کیا گیا اور تین سالوں میں لاکھوں پودے لگائے گئے اور محکمہ جنگلات کی اراضی بھی بااثر افراد سے واگزار کروائی گئی۔
پنڈ دادنخان کے متعددعلاقوں سمیت علاقہ بائی دیس،یونین کونسل کوٹلہ فقیر،مونن ،گھرمالہ میں اربوں روپے کی لاگت سے رابطہ سڑکیں تعمیر کروائی گئیں ،کھیوڑہ میں ای او بی آئی آفس کا قیام عمل میں آیا، دوسری طرف کپتان کا کھلاڑی وزارت کے منصب پر بیٹھکر حکومت کا بھی فرنٹ فٹ پر دفاع کرتا رہا۔ اس دوران فواد چوہدری نے للِہ تا جہلم 128کلو میٹر پر محیط دورویہ سڑک کے لیے بھی فنڈز منظور کروا لیے اور یہ منصوبہ نومبر 2022میں شروع ہوا۔
سابق وزیر اعظم نے وزیر اعظم سیکرٹریٹ میں اسکا افتتاح کیا،علاقے کی عوام ایک دفعہ پھر خوشی سے جھوم اٹھی، ادھر سنگھوئی میں پارک بھی قائم ہوگیا، دورویہ سڑک کی منظوری کے بعد جب فواد چوہدری اپنے انتخابی حلقہ پہنچے تو للِہ انٹرچینج پر ہزاروں افراد نے انکافقیدالمثال استقبال کیا۔
فواد چوہدری کی یہ خوبی رہی ہے کہ انہوں نے ہر جلسے ہر پلیٹ فارم پر یہ کہا کہ عمران خان ہمارے محسن ہیں جن کی بدولت جہلم کے ایک سو سے زائد اسکول اپ گریڈ ہوئے، اسپتالوں میں ڈاکٹرز اور عملے کی قلت پوری ہوئی،جلالپور نہر، دورویہ سڑک، رابطہ سڑکیں، پنڈدادانخان پاسپورٹ آفس ، ای او بی آئی آفس، القادر یونیورسٹی، نکودر بائی پاس روڈ سمیت دیگر اہم منصوبے شروع ہوئے، تاریخی اور تفریح مقامات کو اجاگر کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے ،ٹکہ کو نیشنل پارک کا درجہ دیاگیا، ضلع جہلم کے تاریخی مقامات کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کیاگیا۔
تعمیروترقی کا ی سفر جاری تھا کہ رجیم چینج کے تحت حکومت پلٹ دی گئی۔ ضلع جہلم میں فواد چوہدری کے شروع کروایا گئے عوامی منصوبے رکوا دئیے گئے، فواد چوہدری نے وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی سے پانچ کروڑ روپے منظور کروائی۔ للِہ جہلم دورویہ سڑک کی تعمیر دوبارہ شروع ہوئی لیکن اسمبلیاں تحلیل ہوتے ہی ایک دفعہ پھر نہ صرف ان منصوبوں کوروکا گیا بلکہ پارٹی کا موقف مضبوط دلائل اور دلیری کے ساتھ بیان کرنے پر فواد چوہدری کو گرفتار کرکے جیل بھیجا گیا۔
دوران حراست ظلم و بربریت کے پہاڑ گرائے گئے لیکن ضمانت پر رہائی کےبعد فواد چوہدری نے اپنی پارٹی کی پھر جرآت اور بہادری کے ساتھ ترجمانی کی انکو اسلام آباد سے دوبارہ گرفتار کیاگیا، فیملی کو حراساں کیاگیا، معصوم بچیاں باپ کی محبت میں کبھی جیل تو کبھی کچہری تھانوں میں بھٹکتی رہی، بھائی اور بیویاں تھانے کچہری اور جیل کے چکروں میں ڈال دئیے گئے ، اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر رہائی ملی تو پولیس ایک دفعہ پھر اسلام آبائی ہائی کورٹ کے دروازے پر گرفتار کرنے پہنچ گئی۔
اس سے قبل فواد چوہدری اور انکی فیملی کو اتنا حراساں اور خوفزدہ کیاگیا کہ وہ گرفتاری سے بچنے کے لیے گاڑی سے اتر کر عدالت کی طرف بھاگے اور گرکر زخمی بھی ہوئے، ان پر قدر ذہنی ٹارچر کیاگیا تھا کہ وہ پارٹی چھوڑنے کا بیان دینے پر مجبور ہوگئے اور وقتی طور پر سیاست سے دوری اختیار کرلی، اس دوران پی ٹی آئی سمیت کسی نے انکاساتھ نہ دیا بلکہ بھاگےطعنے دئیے گئے میمز بنائی گئیں اور پھر پوری دنیا نے بہت ساروں کو بھاگتے دیکھا۔
فواد چوہدری کو زبردستی جہانگیر ترین کی پارٹی جوائن کروانے کی کوشش کی گئی انہیں زبردستی جہانگیر ترین کی پریس کانفرنس میں لے جایا بھی گیا لیکن فواد چوہدری نے آئی پی پی میں شمولیت سے انکارکردیا، مفاہمت کی کوشش ضرور کی لیکن اس میں کامیاب نہ ہوسکے اور خاموش ہوکر بیٹھ گئے۔
اسٹیبلشمنٹ کے کچھ لوگ چاہتے تھے کہ فواد چوہدری بھی فیاض الحسن چوہان، فردوس عاشق اعوان، فرخ حبیب، عثمان ڈار، علی زیدی، عامر کیانی، صداقت عباسی، علیم خان ، عون چوہدری کی طرح عمران خان اور انکی اہلیہ کے خلاف پریس کانفرنس کریں اور آئی پی پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑیں لیکن فواد چوہدری نے کہا عمران خان میری محسن ہیں انکے بغیر ہم کونسلر بھی نہیں بن سکتے، میں سیاست چھوڑ دوں گا عمران خان یا انکی فیملی کے بار ے نہیں بول سکتا۔
یہ جرم تھا فواد چوہدری کا اور اس جرم کی پاداش میں انہیں گزشتہ برس ماہ نومبر انکے بھائی فیصل فرید چوہدری کے گھر سے سول کپڑوں میں ملبوس افراد نے اٹھا کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا وہاں ایک دفعہ پھر عمران خان کے خلاف بولنے کے بدلے رہائی کی آفردی گئی تو فواد چوہدری نے مسترد کردی، انکے خلاف اسلام آباد کے ایک تھانے میں دھوکہ دہی اور فراڈ کا ایک بوگس مقدمہ درج کرکے گرفتار ڈالی گئی۔
اسکے بعد پھر جیل بھیج کر آفردی گئی کہ عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف بولواور آئی پی پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑو رہابھی کروا دیں گے اور الیکشن بھی جتوا دیں گے لیکن فواد چوہدری نے ایک دفعہ پھر انکار کردیاجس کے بعد انٹی کرپشن اور تھانہ پنڈدادنخان میں جھوٹے اور بے بنیادقسم کے بھونڈے مقدمات درج کیے گئے۔
یہاں بھی فواد چوہدری نے عمران خان اور انکی اہلیہ کے خلاف پریس کانفرنس کرنے سے انکار کیا تو اسکے بعد للِہ تا جہلم دورویہ سڑک کا کیس بنا کر نیب نے گرفتاری ڈال دی ریمانڈ حاصل کیا،یہاں بھی فواد چوہدری کو توڑنے کے تمام حربے ناکام ہوئے تو انہیں الیکشن میں کاغذات نامزدگی جمع کروانے سے روکا گیا، انکے بھائی فراز چوہدری کو ریٹرننگ آفیسر کے دفتر کے باہر سے گرفتار کیاگیا۔
فواد چوہدری کے کاغذات نامزدگی جمع ہونے کے بعد مسترد کروادیا گیا، نیب کے مقدمہ میں ضمانت بھی مسترد کروادی، کبھی منہ پے کپڑا ڈال کر پیشی پے لایا جاتا ہے تو کبھی دہشت گردوں کی طرح بکتربند گاڑی میں ، فواد چوہدری پہلی بیوی سے بڑی بیٹی کو بمشکل تعلیم کے حصول کے لیے امریکہ جانے کی اجازت دی گئی، پورے خاندان کا نام چیک لسٹ میں ڈالا گیا۔
سیکنڈ وائیف معصوم بچیوں کے ساتھ جیل، کچہری کے دھکے کھا رہی ہے، معصوم بچیاں ہتھکڑیوں میں جگڑے باپ کوبوسے دیتی اور باپ نم آنکھوں کے ساتھ معصوم بچیوں کو ہتھکڑی لگے ہاتھوں کے ساتھ اٹھا کر پیاراور الوداع کرکے جیل روانہ ہوجاتا ہے، جیل میں طرح طرح کی اذیت پہنچائی جاتی ہے، کبھی چکی میں میٹھا پھینک کر لال بیگ اور کیڑے چھوڑے جاتے ہیں تو کبھی مختلف طریقوں سے اعصاب کو توڑنے کی کوشش کی گئی لیکن اس بار فواد چوہدری مضبوط اعصاب کا مالک دکھائی دے رہا ہے،تمام تکالیف کے باجود اسکے حوصلے بلند ہیں۔
فیصلہ سازوں کو فواد چوہدری کے خلاف وزارت اطلاعات اور سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے کچھ نہ ملا تو کچھ سرکاری آفیسران کو بھی استعمال کرے، بوگس مقدمات بنانے کی کوشش کی گئی کچھ ہاتھ نہ آنے اور افسران کے انکار پر انٹی کرپشن، نیب اور مختلف تھانوں میں جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات درج کیے۔
یہ تمام مقدمات ایک دن میں ختم ہوسکتے ہیں اگر فواد چوہدری ضمیر کا سودا کرکے عمران خان کے خلاف پریس کانفرنس کرے لیکن پانچ ماہ سے جیل میں بند معصوم بچیوں سے دورفواد چوہدری خاندانی آدمی ہے، اپنے حسن کے خلاف محض رہائی کے لیے سودے بازی نہیں کرےگا،لیکن افسوس ہے پی ٹی آئی کے کچھ راہنماؤں پر جو عمران خان اور انکی اہلیہ کے خلاف بولنے ٹاک شوز اور پریس کانفرنس میں عمران خان ،بشری بی بی کے خلاف بولنے والوں کے ہمدرد بنےہوئے ہیں۔
عمران خان ، انکی اہلیہ بشری بی بی کےخلاف لب کشائی نہ کرنے اور عمران خان کواپنا محسن کہنےوالے فواد چوہدری کو تاحال بے جا تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں ،شاید یہ ایسے افراد ہیں جو فواد چوہدری سے حسد کرتے ہیں ،یہ سمجھتے ہیں کہ فواد چوہدری کے ہوتے ہوئے انکی دال نہیں گلتی۔ لیکن وہ وقت دور نہیں جب فواد چوہدری سر خرو ہوگا،رہائی کے بعد نئے عزم ،جذبے ،ہمت اور حوصلے کے ساتھ سیاسی میدان میں اترے گا، کپتان کے ساتھ۔



