طب کی دنیا کا ایک معتبر نام۔۔۔۔ڈاکٹر سعید انور

ڈاکٹر بننا ایک پیشہ ضرور ہے، لیکن ایک اچھا ڈاکٹر بن کر لوگوں کے دلوں میں جگہ بنانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ علاج صرف دوا لکھ دینے کا نام نہیں، بلکہ مریض کو وقت دینا، اس کی بات توجہ سے سننا، تسلی دینا اور شفقت کے ساتھ اس کا معائنہ کرنا بھی مسیحائی کا حصہ ہے۔

ڈاکٹر سعید انور جہلم کے ان ہی قابل اور خوش اخلاق طبیبوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت کے ساتھ ساتھ اپنے اچھے اخلاق اور مریضوں سے حسنِ سلوک کے باعث ایک خاص مقام بنایا ہے۔ بطور ماہرِ امراضِ معدہ و جگر (Gastroenterologist) ڈاکٹر سعید انور نے طویل عرصے تک ڈی ایچ کیو ہسپتال جہلم میں اپنی خدمات سرانجام دیں۔ اب وہ ڈی ایچ کیو ہسپتال سے خیرباد کہہ کر اپنے پرائیویٹ کلینک میں مریضوں کو طبی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب کے بارے میں لکھنے کی ایک بڑی وجہ محض ان کا طبی شعبے سے تعلق نہیں بلکہ میرا ذاتی تجربہ بھی ہے۔ میں خود کئی مرتبہ مریضوں کو لے کر ڈاکٹر سعید انور کے پاس گیا ہوں۔ ہر مرتبہ جس چیز نے مجھے متاثر کیا، وہ ان کا مریض کو بھرپور توجہ سے چیک کرنا اور اس کی بات اطمینان سے سننا ہے۔

وہ مریض کو محض ایک کیس نہیں سمجھتے بلکہ اس کے ساتھ انتہائی پیار، شفقت اور حسنِ سلوک سے پیش آتے ہیں۔ مریض کی بات مکمل سنتے ہیں، اطمینان سے معائنہ کرتے ہیں اور بیماری کے حوالے سے تسلی سے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جو شخص ایک مرتبہ ان سے علاج کرواتا ہے، وہ دوبارہ بھی انہی سے رجوع کرنا پسند کرتا ہے۔

ڈاکٹر سعید انور کی شخصیت کا ایک خوبصورت پہلو یہ بھی ہے کہ ان کی اہلیہ بھی ڈاکٹر ہیں۔ یوں یہ خاندان بھی شعبۂ طب سے وابستہ ہو کر لوگوں کی خدمت میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ ڈاکٹر میاں بیوی کا یہ سفر اس بات کی خوبصورت مثال ہے کہ علمِ طب صرف ایک ذریعۂ معاش نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔

آج کے دور میں جب مریض اکثر ڈاکٹر کے پاس وقت اور توجہ کی کمی کی شکایت کرتے ہیں، ایسے میں اگر کوئی ڈاکٹر مریض کو وقت دے، اس کی بات سنے، محبت اور احترام سے پیش آئے اور اسے مطمئن کرکے رخصت کرے تو یہ واقعی قابلِ تعریف بات ہے۔

ڈاکٹر سعید انور کی اصل خوبی شاید یہی ہے کہ وہ مریض کو صرف بیماری کی نظر سے نہیں دیکھتے بلکہ ایک انسان کی حیثیت سے اس کی پریشانی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

جہلم جیسے شہر کے لیے یہ خوش آئند بات ہے کہ یہاں ایسے ماہر ڈاکٹر موجود ہیں جو اپنی صلاحیتوں کو بڑے شہروں تک محدود رکھنے کے بجائے اپنے شہر کے لوگوں کو طبی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔

میرا ذاتی تجربہ یہی ہے کہ ڈاکٹر سعید انور کے پاس مریض لے کر جائیں تو کم از کم یہ اطمینان ضرور رہتا ہے کہ مریض کو توجہ سے سنا اور مناسب انداز میں چیک کیا جائے گا۔

مسیحائی صرف سفید کوٹ پہننے کا نام نہیں، مسیحائی مریض کے چہرے پر اطمینان واپس لانے کا نام ہے اور ڈاکٹر سعید انور جیسے ڈاکٹر اسی مسیحائی کی ایک خوبصورت مثال ہیں۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button