جہلم میں پرائیویٹ سکولز کے مالکان کی لوٹ مار، غریب بچوں کے والدین کا استحصال کرنے لگے

جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں قائم پرائیویٹ سکولز کے مالکان کی لوٹ مار جاری، پرائیویٹ سکولز مالکان کی جانب سے غریب بچوں کے والدین کا استحصال جاری، محکمہ تعلیم کے ضلعی افسران پرائیویٹ سکولزمالکان کو کنٹرول کرنے میں بری طرح نا کام ہیں۔
تفصیلات کے مطابق جہلم شہر سمیت ضلع بھرمیں اس وقت سینکڑوں کی تعداد میں پرائیویٹ سکولز ، کالجز رجسٹرڈ ہیں اور طے شدہ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سکولز مالکان نے محکمہ تعلیم کے افسران کی ملی بھگت کیوجہ سے کئی گنا اضافی فیسیں ، طلباء و طالبات سے وصول کرنی شروع کررکھی ہیں۔
پرائیویٹ سکولز مالکان نے معاہدے کے مطابق بچوں کی غیر نصابی سرگرمیوں کے لئے گراؤنڈ، موسم گرما میں پینے کے صاف پانی اور بجلی کی سپلائی مہیاکرنے کے ساتھ ساتھ سکولز کے اندر صاف ستھرا ماحول فراہم کرنے کے پابند ہیں۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ پرائیویٹ سکولز مالکان معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ کی بھرتیاں کرنے میں بری طرح ناکام ہیں جبکہ اندرون شہر اور ملحقہ علاقوں میں پرائیویٹ مالکان نے چند کمروں پر مشتمل گھٹن زدہ ماحول میں سکولز قائم کررکھے ہیں جہاں گراؤنڈ تو دور کی بات صحن تک موجود نہیں بچوں اور اساتذہ کے لئے ایک ہی واش روم موجود ہے۔
سکولز انتظامیہ نے والدین کو پابند کرنا شروع کررکھا ہے کہ آپ نے بچوں کی کتابیں ، کاپیاں ، بستے ، یونیفارمز ، پنسلیں وغیرہ بھی سکولز سے خریدنی ہیں ۔ اس طرح پرائیویٹ سکولز مالکان نے بچوں کے والدین سے لوٹ مار کاسلسلہ شروع کررکھا ہے۔
شہری تنظیموں کے عمائدین نے وزیراعلیٰ پنجاب، صوبائی وزیرتعلیم رانا سکندر حیات، چیف سیکرٹری پنجاب اور سیکرٹری تعلیم سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔



