جہلم میں چکی مالکان نے آٹا کی قیمت کم کرنے سے انکار کر دیا

جہلم: صوبائی حکومت کی جانب سے گندم اور آٹے کی قیمتوں میں واضح کمی کے با وجود چکی مالکان نے آٹے کی قیمتیں کم کرنے سے صاف انکار کر دیا۔

ضلعی انتظامیہ اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی مبینہ غفلت ولا پرواہی کے باعث چکی آٹا کھلے عام 140 روپے فی کلو میں فروخت کرنے لگے۔ وفاقی و صوبائی حکومت کی جانب جہلم سمیت راولپنڈی ڈویژن میں گندم کے نرخ مقرر ہونے کے بعد آٹے کی نئی قیمت 70 اور 80 روپے فی کلوبنتی ہے۔

فلور ملز مالکان ملک بھر میں آٹے کے 20 کلو کے تھیلے کی قیمت 1800 روپے جبکہ 15 کلو کے تھیلے کی قیمت 1350 روپے مقرر کر کے پرچون میں فروخت کر رہے ہیں جبکہ پرچون فروش دکاندار آٹا پر چون میں بھی 90 روپے فی کلو میں فروخت کر رہے ہیں لیکن چکی مالکان گندم کے نرخ کم ہونے کے باوجود پسا ہوا گندم کا آٹا پرانے نرخوں پر 140 روپے فی کلو میں فروخت کر کے شہریوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔

چکی مالکان نے کسانوں سے گندم 3200 روپے فی من تک خریدی ہوئی ہے گندم پیسں کر اس کا آٹا 140 روپے فی کلو اور 5600 روپے فی من کے حساب فروخت کر رہے ہیں اور 100 فی صد سے زائد منافع وصول کر رہے ہیں۔

اس طرح چکی مالکان سے احتجاج کرنے والے شہریوں کے ساتھ بدسلوک کی جاتی ہے جس پر شہریوں نے اس ظلم اور زیادتی اور نا جائز منافع خوری پرڈپٹی کمشنر سے نوٹس لینے اور گراں فروشی کے مرتکب چکی مالکان کے خلاف کارروائیاں کرنے کا مطالبہ کیاہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button