جہلم میں پٹرول ایجنسی میں آتشزدگی، 22 سالہ نوجوان جھلس کر زخمی، آگ پر قابو پا لیا گیا، مقدمہ درج

جہلم/ دینہ:جہلم کے علاقہ چک جمال میں قائم غیر قانونی پٹرول ایجنسی میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، آگ نے ایجنسی سمیت ملحقہ مارکیٹ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ سے جھلس کر 22سالہ نوجوان زخمی ہو گیا، آگ پر دو گھنٹے بعد قابو پالیا گیا، ایجنسی مالک کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق جہلم کے نواحی علاقہ چک جمال میں قائم غیر قانونی پٹرول ایجنسی میں اچانک آگ بھڑک اٹھی اور دیکھتے ہی دیکھتے آگ کے بلند شعلے علاقے میں منڈلانے لگے جس سے پوری دوکان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ سے جھلس کر 22 سالہ نوجوان احمد ولد کوثر شدید زخمی ہو گیا جسے فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
ریسکیو 1122کو بروقت اطلاع پر انچارج ریسکیو سعید احمد اپنی ٹیم کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے اور پونے دو گھنٹے کی جدو جہد کے بعد آگ پر قابو پایا گیا ، ریسکیو 1122کی بروقت کوشش سے مزید دوکانیں جلنے سے بچ گئیں ۔
ریسکیو حکام کے مطابق ایجنسی میں غیر قانونی پٹرول اور ڈیزل کی فروخت جاری تھی، دوکان میں رکھے گئے 19 پٹرول کے ڈرم اور 6 ڈیزل کے ڈرم بلاسٹ ہوئے ہیں۔
آگ یجنسی مالک کی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے لگی ہے مزید تحقیقات کی جارہی ہیں۔ ریسکیو کے ساتھ سی او ڈی کالا سول ڈیفنس نے بھی معاونت کی ہے، ریسکیو کی تین گاڑیوں نے آپریشن میں حصہ لیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر جہلم سیدہ رملہ علی کے حکم پر چک جمال میں چوری چھپے پٹرول اور ڈیزل ذخیرہ کرنے اور فروخت کرنے والے پٹرول ایجنسی کے مالک عمران ڈار کے خلاف سول ڈیفنس آفیسر کی درخواست پر تھانہ کالا گوجراں میں پٹرولیم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔
یاد رہے کہ محکمہ سول ڈیفنس کے ذمہ داران کی نااہلی و غفلت کی وجہ سے ضلع بھر کے متعدد مقامات پر غیر قانونی پٹرول ایجنسیاں کھلے عام پٹرول فروخت کرنے کا کام کررہی ہیں جس بارے متعدد مرتبہ اخباری و تحریری طور پر سول ڈیفنس کے ارباب اختیار کو اس اہم مسئلے بارے آگاہ کرنے کی کوششیں کی جاچکی ہیں لیکن سول ڈیفنس کے افسران و اہلکار اس گھمبیر مسئلے کے سد باب کے لئے کوئی اقدامات نہیں اٹھارہے۔
اس کی وجہ سے گزشتہ سال 9 جولائی 2023 کو برلب جی ٹی روڈ کالا گجراں کے مقام پرسلنڈر بھرائی کے دوران ہوٹل کے تہہ خانے میں سلنڈر پھٹنے سے ہوٹل کی عمارت زمین بوس ہو گئی تھی جس کے ملبے تلے دب کرموقع پر 6 افراد جاں بحق اور 15 افراد زخمی ہو گئے تھے۔
محض چند روز سول ڈیفنس کے عملے نے فوٹو سیشن کرکے اعلیٰ افسران کو سب اچھا ہے کی رپورٹس بھجوادیںجبکہ آج بھی غیر قانونی پٹرول ایجنسی اور غیر قانونی سلنڈر بھرائی کا کام تواتر کے ساتھ جاری ہے جس کی تمام تر ذمہ داری سول ڈیفنس کے ذمہ داران پر عائد ہوتی ہے۔
جہلم شہر کی سماجی، رفاعی، فلاحی و شہری تنظیموں کے عمائدین نے کمشنر راولپنڈی، ڈپٹی کمشنر، ایڈوائزر صوبائی محتسب پنجاب جہلم سے مطالبہ کیاہے کہ کھلے عام پٹرول اور سلنڈر بھرائی کا کارروبار کرنے والے غیر قانونی ایجنسیز مالکان کے خلاف کارروائیاں عمل میں لائی جائیں تاکہ جانی و مالی نقصان پر قابو پایا جا سکے۔



