سودی معیشت سے کبھی معیشت درست نہیں ہو سکتی، امیر عبدالقدیر اعوان

امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ جہاں بھی سود کا نظام ہو گا چاہے انفرادی ہو یاحکومتی سطح پروہاں قرآن مجید کے ارشاد کے مطابق ایمان نہ ہوگا۔سودی نظام اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ اعلان جنگ ہے۔جنگ سے مراد کہ اُس قوم کے حالات ایسے ہوں گے جیسے حالت جنگ میں ہو۔

امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے ایک اجتماع کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وطن عزیز میں عوام کے سرمائے کو سود کی شرح 21 فیصد دی جارہی ہے جس سے ہماری اکثریت اپنا روپیہ بنکوں میں رکھ کر سود کھا رہی ہے۔اگر ہم اپنے سرمائے پر سود لیں گے حکومت سود پر چلے گی تو حالات کیسے درست ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ جاپان میں شرح سود انتہائی کم ہےتا کہ لوگ اپنی رقم بنکوں میں رکھنے کی بجائے اس سے کاروبار کریں شرکت داری کریں وہ کافر ملک ہے لیکن قانون انہوں نے اسلامی اپنائے اور آج وہ ترقی یافتہ ملک ہے جو بھی اسلامی قوانین اپنائے گا وہ ترقی کرے گا۔

امیر عبدالقداعوان نے کہا کہ اللہ کریم نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام فرمایا ہے۔ سودی معیشت سے کبھی معیشت درست نہیں ہو سکتی۔سودی کاروبار کرنے والے قیامت کے روز ایسے اُٹھیں گے جیسے ہو ش میں نہیں ہیں۔جب تک دین اسلام کا نفاذ نہیں ہوگا حالات ایسے ہی رہیں گے۔حق کی جستجو رکھیں اور حق کو اختیار کریں۔

انہوں نے کہا کہ آج وقت ہے موقع ہے کہ خود کا جائزہ لیں اور سیدھی کا انتخاب کریں۔انسان کو اللہ کریم نے اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے جب بندہ اس مقصد سے ہٹتا ہے پھر بھٹکتا چلا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے مرکز دارالعرفان منارہ میں 40 روزہ سالانہ روحانی تربیتی اجتماع جاری ہے جس میں تربیتی کلاسز کا اہتمام ہے اور باقاعدہ منظم طریقے سے سالکین کی تربیت کی جارہی ہے۔ روزانہ دن ساڑھے گیارہ بجے امیر عبدالقدیر اعوان خطاب کرتے ہیں۔ اس اجتماع میں خواتین و حضرات کی بڑی تعداد موجودہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button