سوہاوہ کے دوہرے قتل کیس میں سزائے موت کا ملزم 3 سال بعد ہائی کورٹ سے بری

سوہاوہ کے دوہرے قتل کیس میں سزائے موت کے ملزم کو 3 سال بعد ہائی کورٹ نے بری کر دیا۔ تھانہ ڈومیلی کےنواحی علاقہ اڈرانہ میں دوگروپوں میں جھگڑ ے کے دوران دو افراد قتل ہوگئے تھے۔
تفصیلات کے مطابق جہلم کی تحصیل سوہاوہ کے علاقہ ڈومیلی کے دہرے قتل کیس میں دو دفعہ سزاے موت کے ملزم جہانزیب کو تین سال بعد لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کے جج جسٹس صداقت علی خان اور جسٹس مرزا وقاص روف نے ملزم کے وکلاء کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے ملزم جہانزیب کو بری کر دیا۔
بشیر پراچہ اور راجہ نوازش علی ایڈووکیٹ نےہائیکورٹ میں اپیل دائر کی تھی، ملزم کےاہل خانہ نے وکلا کا شکریہ اداکیامزید کہا ، اچھے دلائل کی بدولت آج جہانزیب بری ہوگیا۔
ایڈووکیٹ راجہ نواز علی کے مطابق عدالت نے قرار دیاکہ درخواست برائے پوسٹ مارٹم میں ملزم کا نام درج نہ کیاجاناپولیس رولز 1934کے بنیادی تقاضوں کے خلاف ورزی ہے اور ملزم جہانزیب کو بری کر دیا۔
یاد رہے کہ 2018 میں جہلم کی تحصیل سوہاوہ کے تھانہ ڈومیلی کے گاوں اڈرانہ میں دو گروپوں میں جھگڑا ہوا تھا، جھگڑے کے دوران فائرنگ سے دو افراد قتل ہوگئے تھے۔ سوہاوہ کی سیشن کورٹ نے ملزم جہانزیب کو دو دفعہ سزاے موت کی سزا سنائی تھی۔



