خدا کا خوف کرو کچھ تو رحم کرو

پنجاب بھر میں محکمہ صحت میں سب سے زیادہ اختیارات رکھنے کے باوجود جہلم کی تحصیل سوہاوہ کو بڑی سہولت سے محروم کر دیا گیا۔ ہفتے کے سات دن ہونے والے آپریشن کو تین دن تک محدود کر دیا گیا۔ اب بچہ سرکاری ہسپتال میں پیدا ہونا ہے تو پہلے اس کو آپریشن کا دن دیکھنا ہو گام ورنہ والدین کو جہلم، راولپنڈی اور پرائیوٹ ہسپتالوں میں ذلیل ہونے کو تیار رہنا ہو گا۔
تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال سوہاوہ میں پنجاب کی بہترین گائنی وارڈ کو 24 گھٹنے اور ایمرجنسی میں مریضوں کا آپریشن کرنے سے روک دیا گیا ۔ اینتھیسزیا سپیشلسٹ سیٹ خالی ہونے پر مسلسل آواز اٹھانے کے بعد ٹی ایچ کیو کو ریگولر اینتھیسزیا کی سہولت ملنے پر ہسپتال میں کسی بھی وقت ایمرجنسی میں سی سیکشن کی سہولت موجود تھی جبکہ قابل گائنی اور جنرل سرجن کی وجہ سے روزانہ آپریشن کا سلسلہ جاری تھا لیکن شاید جہلم کی بد قسمتی ہے کہ جب بھی اس کے شہر کے کسی باسی کو اختیارات ملے تو سب سے پہلے محرمیوں کا شکار جہلم اور اس کی تحصیل ہوتی آئی ہیں۔
ہسپتال کا بجٹ ختم ہو چکا ہے، سپیشلسٹ سیٹ پر تعینات ڈاکٹر ٹرانسفر ہو چکے ہیں۔ انتظامیہ کی آپسی جنگ نے ہسپتال کے نظام کا بیڑہ غرق کر دیا ہے۔ ایم ایس’ ایس کے چوہان سینئر ڈاکٹر ہیں جن سے سیٹ چھیننے کے لیے مسلسل سازشوں کی وجہ سے ہسپتال کی حالت زار دن بدن خراب ہوتی جا رہی ہے نہ سپیشلسٹ ڈاکٹرز رہے ہیں اور نہ ادویات مل رہی ہیں۔
سی او ہیلتھ ڈپٹی کمشنر کو ادویات کی کمی، پیرا میڈیکل اسٹاف کی کمی سمیت سپیشلسٹ ڈاکٹرز کی سیٹیں خالی ہونے کی نشاندہی کے باوجود تاحال بیورو کریسی کی طرف سے کوئی عملدرآمد دیکھنے کو نہ آیا ہے جبکہ انتظامیہ میجر جنرل ریٹائرڈ ڈاکٹر اظہر محمود کیانی مشیر صحت پنجاب کی طرف دیکھتے ہیں کہ شاہد وہ سوہاوہ کی عوام کی ان محرومیوں پر کوئی خصوصی نوٹس لیں۔
امید واثق ہے کہ راجہ اویس خالد ان محرومیوں پر از خود میجر جنرل ریٹائرڈ ڈاکٹر اظہر کیانی مشیر صحت پنجاب سے بات کریں گے تاکہ جلد از جلد ان محرومیوں کا ازالہ ممکن ہو سکے۔
کیونکہ ہفتے میں سات دن چوبیس گھنٹے ایمرجنسی میں آپریشن کی سہولت سے محروم ہونے والے عوام کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کی وضاحت باقی نہیں رہتی، باقی تھانوں میں ٹاؤٹ مافیا کا قبضہ اور شکایات سنتے تھے اب تو ہسپتال میں بھی سارا دن نام نہاد ٹاؤٹ مافیا گائنی وارڈ کے باہر یا انتظامیہ کے دفاتر میں بڑا جمان نظر آتا ہے۔
اب انتظامیہ کی ملی بھگت سے یہ ٹاؤٹ مافیا سارا دن ہسپتال اور انتظامیہ کی دفاتر میں موجود ہوتا ہے یا دیہاڑی میں حصہ بھی دیتا ہے یہ ایک الگ موضوع ہے جس پر تحقیق کے بعد حقائق سامنے لائے جائیں گے۔



