جہلم کے پرائیویٹ ہسپتالوں میں لوٹ مار، نارمل ڈیلیوری کو غیر ضروری آپریشن میں بدلنے کا انکشاف

جہلم شہر اور اس کے گردونواح میں موجود پرائیویٹ ہسپتالوں کے مالکان نے عوام کو مالی استحصال کا نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ نارمل ڈیلیوری کے کیسز کو غیر ضروری طور پر بڑے آپریشن میں تبدیل کر دیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں کئی معصوم جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔

اکثر ڈاکٹرز سرکاری ہسپتالوں میں اپنی ڈیوٹی سرانجام دینے کے باوجود، مالی مفادات کی خاطر مریضوں کو اپنے نجی ہسپتالوں میں ریفر کر دیتے ہیں۔ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کو فعال بنایا جائے اور غیر پیشہ ورانہ رویہ اختیار کرنے والے ہسپتال مالکان کے لائسنس منسوخ کیے جائیں۔

شہر اور اطراف کے علاقوں میں کئی پرائیویٹ ہسپتال ایسے ہیں جو انسانیت کی خدمت کے بجائے کاروباری مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں۔ سادہ لوح عوام سے پیسے بٹورنے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے جاتے ہیں، جن میں نارمل ڈیلیوری کے کیسز کو زبردستی آپریشن قرار دے کر 40 سے 50 ہزار روپے وصول کرنا عام بات بن چکا ہے۔

سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ بعض پرائیویٹ ہسپتالوں میں نرسیں لیڈی ڈاکٹرز، سرجنز اور اینستھیزیا کے ماہرین کا کام خود انجام دے رہی ہیں، جو زچہ و بچہ کی زندگی کے ساتھ سنگین ناانصافی ہے۔ شہریوں نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ عوام کی صحت اور جانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button