گداگری ایکٹ کی منظوری کے باوجود جہلم میں بھکاریوں کی بھرمار، پولیس کارروائی سے گریزاں

جہلم: گداگری ایکٹ کی منظوری اور حکومت پنجاب کی جانب سے سختی سے عمل درآمد کے احکامات کے باوجود جہلم شہر میں بھکاریوں کی ٹولیاں گلیوں اور بازاروں میں مٹر گشت کرتی دکھائی دیتی ہیں، جبکہ پولیس بھکاریوں کے خلاف کارروائی کرنے سے گریزاں ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور حکومت پنجاب نے گداگری ایکٹ کے تحت سخت قانون سازی کرتے ہوئے بھیک مانگنے پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے۔ اس قانون کے تحت کوئی بھی شخص، چاہے وہ کسی ذاتی مقصد کے لیے ہو یا فلاحی کام کے لیے، بھیک نہیں مانگ سکتا۔ خلاف ورزی کی صورت میں بھکاریوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی اور انہیں گرفتار کیا جائے گا۔
تاہم جہلم کے مختلف علاقوں میں بھکاری خواتین، مرد اور بچے گلی محلوں میں آزادانہ طور پر بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔ ان میں کئی ہٹے کٹے اور صحت مند افراد بھی شامل ہیں، جو پیشہ ور بھکاریوں کے گروہوں کا حصہ معلوم ہوتے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس ان بھکاریوں کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہیں کر رہی، جس سے ان کے حوصلے مزید بڑھ رہے ہیں۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اور پولیس فوری طور پر متحرک ہو کر بھیک مانگنے والے ان افراد کے خلاف سخت کارروائیاں کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ گداگری ایکٹ کا نفاذ صرف قانون سازی تک محدود نہ رہے بلکہ اس پر عملی طور پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ شہر کو ان پیشہ ور بھکاریوں سے نجات دلائی جا سکے۔



