رمضان المبارک؛ جہلم میں مہنگائی نے شہریوں کیلئے سحر اور افطار بھی مشکل بنا دی

جہلم شہر اور گردونواح میں مہنگائی نے ماہِ مبارک میں شہریوں کے لیے سحری اور افطاری بھی مشکل بنا دی ہے۔
سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں جبکہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے، جس کے باعث دکاندار من مانی قیمتوں پر اشیاء فروخت کر رہے ہیں۔
رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی گراں فروشی میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ دکانداروں نے ناقص کوالٹی کے پھل بھی اپنی مرضی کے نرخوں پر فروخت کرنا شروع کر دیے ہیں، جس کی وجہ سے عام شہری شدید پریشانی میں مبتلا ہو گئے ہیں۔
اچھی کھجور ایک ہزار روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے، خربوزہ اڑھائی سو روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے جبکہ سٹرابری کی قیمت آٹھ سو روپے فی کلو ہو چکی ہے۔ اسی طرح درمیانے سائز کے کیلے تین سو روپے درجن، سیب چار سے چھ سو روپے فی کلو، امرود اڑھائی سو سے تین سو روپے فی کلو جبکہ لیموں بھی دو سو سے تین سو روپے کلو تک جا پہنچا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ڈپٹی کمشنر کی جانب سے گراں فروشی کے خلاف کارروائی کے لیے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کو ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں، مگر متعلقہ افسران خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ عوامی شکایات کے باوجود انتظامیہ کی بے حسی اور غفلت کے باعث دکاندار بلا خوف و خطر ناجائز منافع خوری میں مصروف ہیں اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے والا کوئی نہیں۔
شہریوں نے ڈپٹی کمشنر جہلم سے مطالبہ کیا ہے کہ رمضان المبارک میں عوام کو سرکاری نرخوں پر اشیاء خوردونوش کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخوں سے زائد قیمت وصول کرنے والے دکانداروں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جائیں تاکہ عام آدمی بھی سحری اور افطاری کے لیے اشیاء خریدنے کے قابل ہو سکے۔



