ضلع جہلم کے سرکاری تعلیمی اداروں میں واٹر فلٹریشن پلانٹس کی شدید کمی، طلبہ آلودہ پانی پینے پر مجبور

جہلم شہر سمیت ضلع بھر کے 80 فیصد سے زائد سرکاری تعلیمی اداروں میں تاحال واٹر فلٹریشن پلانٹس نصب نہ ہو سکے، جس کے باعث ہزاروں طلبہ و طالبات نلکوں اور ٹونٹیوں سے بدبو دار اور آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔ گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ساتھ صاف پانی کی عدم دستیابی طلبہ کی صحت کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔
ضلع جہلم کے سینکڑوں سرکاری سکولوں اور دفاتر کے باہر نصب کیے گئے چند واٹر فلٹریشن پلانٹس بھی اکثر خراب اور غیر فعال حالت میں پڑے ہیں، جنہیں ابھی تک مرمت نہیں کیا گیا۔ صورتحال یہ ہے کہ جہلم شہر کے 70 فیصد سے زائد سرکاری تعلیمی اداروں میں نہ صرف فلٹریشن پلانٹس موجود نہیں، بلکہ جہاں نصب کیے گئے ہیں وہاں بھی وہ ناکارہ ہو چکے ہیں۔
اسی طرح ضلع بھر کے 90 فیصد سرکاری و نجی کالجز میں بھی فلٹریشن پلانٹس کی سہولت موجود نہیں جبکہ چند کالجز میں نصب پلانٹس بھی ناقص دیکھ بھال کے باعث غیر فعال ہو چکے ہیں۔
والدین اور شہری حلقوں نے بچوں کی صحت کو لاحق خطرات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پنجاب، وزیراعلیٰ مریم نواز شریف، چیف سیکرٹری پنجاب اور سیکرٹری تعلیم سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام سرکاری تعلیمی اداروں میں فوری طور پر واٹر فلٹریشن پلانٹس نصب کیے جائیں اور نجی تعلیمی اداروں کو بھی یہ سہولت فراہم کرنے کا پابند بنایا جائے۔ ساتھ ہی یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ جو نجی تعلیمی ادارے فلٹریشن پلانٹ نصب نہیں کرتے، ان کی رجسٹریشن منسوخ کی جائے تاکہ طلبہ کو صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔



