جہلم کے ہوٹلوں، ورکشاپس اور دکانوں پر کم عمر بچوں سے جبری مشقت عروج پر

جہلم: ضلع جہلم میں لیبر ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔

جہلم شہر کے مختلف ہوٹلوں، ورکشاپس اور دکانوں پر کم عمر بچوں سے معمولی اجرت پر جبری مشقت لی جا رہی ہے اور اگر وہ کام کرنے سے انکار کریں یا غلطی کریں تو انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس افسوسناک صورتِ حال کے باوجود متعلقہ محکمہ مکمل خاموشی اور لاتعلقی اختیار کیے ہوئے ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق لیبر قوانین کی واضح خلاف ورزی کے باوجود محکمہ لیبر کے افسران اور اہلکاروں نے مجرمانہ چشم پوشی اختیار کر رکھی ہے، جس کی وجہ سے بااثر دکانداروں اور ورکشاپ مالکان نے گویا جنگل کا قانون نافذ کر رکھا ہے۔ کمسن بچوں کو نہ صرف تعلیم سے محروم کیا جا رہا ہے بلکہ ان سے سخت جسمانی مشقت بھی کروائی جا رہی ہے جو کہ ملکی قوانین اور بچوں کے بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

شہریوں، عوامی و سماجی حلقوں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، چیف سیکرٹری پنجاب، سیکریٹری لیبر، ایڈوائزر برائے لیبر اور صوبائی محتسب پنجاب سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکمے کی مسلسل غفلت اور لاپرواہی کے باعث معصوم بچوں کا مستقبل تاریک ہو رہا ہے۔

شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع بھر میں چھاپے مار کر کم عمر بچوں سے جبری مشقت لینے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور لیبر ڈیپارٹمنٹ کے ناقص کارکردگی کے ذمہ دار افسران کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جب تک حکومتی ادارے متحرک نہیں ہوں گے، معصوم بچوں پر ہونے والا یہ ظلم بند نہیں ہو سکتا۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button