ماہ صیام میں ہوٹل مافیا بے لگام، رمضان المبارک کا تقدس پامال، انتظامیہ کی خاموشی پر شہریوں کا سخت رد عمل

جہلم شہر اور گردونواح میں رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے دوران کھلے عام ہوٹلوں کی سرگرمیوں نے شہری حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ بعض ہوٹل مالکان روزے کے اوقات میں بلاخوف و خطر کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں، جس سے نہ صرف رمضان المبارک کے تقدس کی پامالی ہو رہی ہے بلکہ معاشرے میں منفی پیغام بھی جا رہا ہے۔
مقامی افراد کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں دن کے اوقات میں ہوٹلوں پر پردے ڈال کر یا بعض مقامات پر کھلے عام کھانے پینے کا سلسلہ جاری ہے۔ شہریوں کا سوال ہے کہ کیا متعلقہ ادارے اس صورتحال سے لاعلم ہیں یا دانستہ طور پر چشم پوشی اختیار کی جا رہی ہے؟ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ قانون موجود ہونے کے باوجود اس پر عملدرآمد نہ ہونا لمحۂ فکریہ ہے۔
شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ہوٹل مافیا بااثر ہونے کے باعث کارروائی سے بچ جاتا ہے جبکہ انتظامیہ کی خاموشی اس عمل کو مزید تقویت دے رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر فوری نوٹس نہ لیا گیا تو صورتحال مزید سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے۔
سماجی و مذہبی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر جہلم میر رضا اوزگن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کرتے ہوئے روزے کے اوقات میں ہوٹل کھولنے والوں کے خلاف بلاامتیاز قانونی اقدامات یقینی بنائیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک کے احترام کو برقرار رکھنا انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
عوام نے واضح کیا ہے کہ وہ شہر میں اسلامی اقدار اور قانون کی پاسداری چاہتے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ ضلعی انتظامیہ فوری حرکت میں آ کر اس سلسلے کو بند کرائے گی تاکہ رمضان المبارک کا تقدس بحال رہ سکے۔



