آزادی صحافت کا عالمی دن اور سچ کی گھٹتی سانسیں

ہر سال جب آزادی صحافت کا عالمی دن آتا ہے تو بیانات، سیمینارز اور تقاریر کی بھرمار ہو جاتی ہے۔ الفاظ میں آزادی صحافت کے گیت گائے جاتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی سچ بولنے والے محفوظ ہیں؟ کیا قلم آج بھی اتنا ہی آزاد ہے جتنا ہم دعویٰ کرتے ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ صحافت کا سب سے بڑا المیہ اب دشمن کی گولی نہیں بلکہ اپنے معاشرے کی بے حسی بن چکی ہے۔ سچ لکھنے والا صحافی کبھی دباؤ کا شکار ہوتا ہے، کبھی دھمکیوں کا اور کبھی خاموشی کے اندھیروں میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ آزادی صحافت کا مطلب صرف یہ نہیں کہ آپ کو بولنے کی اجازت ہو، بلکہ یہ بھی ہے کہ آپ بغیر خوف کے سچ بول سکیں اور یہی چیز آج نایاب ہوتی جا رہی ہے۔
آج کا دور معلومات کا نہیں، “معلومات کی جنگ” کا دور ہے۔ یہاں خبر نہیں، بیانیہ بکتا ہے۔ یہاں تحقیق نہیں، تاثر چلتا ہے۔ یہاں سچ کو بھی اس وقت تک قبول نہیں کیا جاتا جب تک وہ کسی کے مفاد کے مطابق نہ ہو۔ سوشل میڈیا نے ہر شخص کو “صحافی” تو بنا دیا ہے، مگر سچ اور جھوٹ کے درمیان لکیر کو دھندلا بھی کر دیا ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم خود بھی اس زوال کے ذمہ دار ہیں۔ ہم وہی خبر پسند کرتے ہیں جو ہمارے نظریے کو تقویت دے، چاہے وہ جھوٹ ہی کیوں نہ ہو۔ ہم وہی اینکر دیکھتے ہیں جو ہمارے جذبات کو بھڑکائے، نہ کہ وہ جو ہمیں سوچنے پر مجبور کرے۔ یوں ہم آہستہ آہستہ سچ کو خود ہی دفن کر دیتے ہیں۔
صحافت صرف خبر دینے کا نام نہیں، یہ معاشرے کا ضمیر ہے۔ جب یہ ضمیر کمزور پڑتا ہے تو پورا معاشرہ اندھا ہو جاتا ہے۔ ایک آزاد اور ذمہ دار صحافت ہی وہ آئینہ ہے جو ہمیں ہماری اصل شکل دکھاتی ہےچاہے وہ کتنی ہی تلخ کیوں نہ ہو۔
آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہم صرف “آزادی صحافت” کا نعرہ لگائیں، بلکہ اس بات کی ہے کہ ہم اس کی قیمت بھی سمجھیں۔ سچ بولنے والے صحافیوں کے ساتھ کھڑے ہوں، جھوٹی خبروں کو رد کریں اور اپنی رائے کو حقیقت کی بنیاد پر تشکیل دیں۔
کیونکہ اگر سچ بولنے والے خاموش ہو گئے تو جھوٹ بولنے والوں کو بولنے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔
(ادارے کا لکھاری کی رائے اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)



