جہلم میں اشیاء خوردونوش میں ملاوٹ عروج پر پہنچ گئی، فوڈ اتھارٹی خاموش

جہلم شہر اور گردونواح میں اشیائے خوردونوش میں ملاوٹ کا سلسلہ خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے، جس کے باعث شہری مختلف بیماریوں میں مبتلا ہونے لگے ہیں جبکہ متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ضلع بھر میں دودھ، دہی، گھی، چائے کی پتی، سرخ مرچ، مصالحہ جات اور بیسن سمیت دیگر اشیاء کا خالص ملنا مشکل ہو گیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ملاوٹ مافیا کھلے عام غیر معیاری اور کیمیکل ملے اجزاء فروخت کر رہا ہے جبکہ فوڈ اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ مؤثر کارروائی کے بجائے محض کاغذی کارروائیوں اور فوٹو سیشنز تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق بعض مقامات پر دودھ کی تیاری کے نام پر کیمیکلز اور کھاد تک استعمال کیے جا رہے ہیں، جو انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔ مضر صحت اشیاء کے استعمال سے شہریوں میں ہیپاٹائٹس، ٹی بی، گردوں، معدے اور جگر کے امراض میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ سرکاری و نجی ہسپتال ایسے مریضوں سے بھرے پڑے ہیں۔
عوامی حلقوں نے ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی اور چیف سیکرٹری پنجاب سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملاوٹ مافیا کے خلاف بلاامتیاز سخت کارروائیاں کی جائیں اور شہریوں کو معیاری اور محفوظ خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔



