ایف بی آر فائلر فیس میں اضافے پر کاروباری حلقوں کی تشویش

جہلم کے کاروباری اور پراپرٹی سیکٹر سے وابستہ افراد نے ایف بی آر کے فائلر بننے کی فیس میں مبینہ اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے اس فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نئی فیس کے باعث جائیداد کی خرید و فروخت کا کاروبار بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔

کاروباری شخصیات کے مطابق یکم جولائی 2026ء سے ایف بی آر کے فائلر بننے کی فیس میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس سے قبل فائلر بننے کی فیس ایک ہزار روپے تھی، جسے بڑھا کر 25 ہزار روپے کر دیا گیا ہے، جس کے باعث بہت سے افراد فائلر بننے سے گریز کر رہے ہیں۔

کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ زمین کی خرید و فروخت سے متعلق بعض دیگر سرکاری فیسوں میں کمی کی گئی تھی، تاہم فائلر فیس میں اضافے کے باعث اس ریلیف کے مثبت اثرات ختم ہو گئے ہیں۔ ان کے مطابق جائیداد کی رجسٹری، انتقالات اور خرید و فروخت کی سرگرمیوں میں نمایاں کمی آئی ہے، جس سے کاروباری طبقہ مشکلات کا شکار ہے۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر فائلر بننے کی فیس مناسب سطح پر رکھی جائے تو زیادہ سے زیادہ افراد ٹیکس نیٹ میں شامل ہوں گے، حکومت کو بھی ریونیو میں اضافہ حاصل ہوگا اور پراپرٹی کے کاروبار کو بھی فروغ ملے گا۔

کاروباری شخصیات نے حکومت اور متعلقہ وفاقی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ فائلر فیس میں حالیہ اضافے پر نظرثانی کرتے ہوئے اسے کم کیا جائے تاکہ شہری آسانی سے فائلر بن سکیں، ٹیکس نظام میں شمولیت بڑھے اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ مل سکے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button